اپنا احتساب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۰
کہو تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے، تم سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ بے شک تم نافرمان لوگ ہو۔ او وہ اپنے خرچ کی قبولیت سے صرف اس لئے محروم ہوئے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور یہ لوگ نماز کے لئے آتے ہیں تو گرانی کے ساتھ آتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں تو ناگواری کے ساتھ۔ تم ان کے مال اور اولاد کو کچھ وقت نہ دو۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے انھیں دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔ وہ خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالاں کہ وہ تم میں سے نہیں۔ بلکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے ڈرتے ہیں۔ اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ پائیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ تو وہ بھاگ کر اس میں چھپیں مدینہ میں یہ صورت پیش آئی کہ عمومی طور پر لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان میں اکثریت مخلص اہلِ ایمان کی تھی تاہم ایک تعداد وہ تھی جس نے وقت کی فضا کا ساتھ دیتے ہوئے اگرچہ اسلام قبول کر لیا تھا لیکن اس کے اندر وہ سپردگی پیدا نہیں ہوئی تھی جو حقیقی ایمان اور سچے تعلق باللہ کا تقاضا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں کو منافقین کہا جاتا ہے۔ یہ منافقین زیادہ تر مدینہ کے مال دار لوگ تھے اور یہی مال داری ان کے نفاق کا اصل سبب تھی۔ جس کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہ ہو وہ زیادہ آسانی کے ساتھ اس اسلام کو اختیار کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جس میں اپنا سب کچھ کھو دینا پڑے۔ مگر جن لوگوں کے پاس کھونے کے لئے ہو وہ عام طور پر مصلحت اندیشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اسلام کے بے ضرر احکام کی تعمیل تو وہ کسی نہ کسی طرح کر لیتے ہیں۔ مگر اسلام کے جن تقاضوں کو اختیار کرنے میں جان و مال کی محرومی دکھائی دے رہی ہو، جس میں قربانی کی سطح پر مومن بننے کا سوال ہو ان کی طرف بڑھنے کے لئے وہ اپنے کو آمادہ نہیں کر پاتے۔
مگر قربانی والے اسلام سے پیچھے رہنا ان کے "نماز روزہ" کو بھی بے قیمت کر دیتا ہے۔ مسجد کی عبادت کا بہت گہرا تعلق مسجد کے باہر کی عبادت سے ہے۔ اگر مسجد سے باہر آدمی کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہو تو مسجد کے اندر بھی اس کی زندگی حقیقی دین سے خالی ہوگی اور ظاہر ہے روح عمل کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ خدا سچے عمل کو قبول کرتا ہے نہ کہ جھوٹے عمل کو۔
کسی آدمی کے پاس دولت کی رونقیں ہوں اور آدمیوں کا جتھا اس کے گرد و پیش دکھائی دیتا ہو تو عام لوگ اس کو رشک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ سب سے زیادہ بدقسمت لوگ ہیں۔ عام طور پر ان کا جو حال ہوتا ہے وہ یہ کہ مال و جاہ ان کے لئے ایسے بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کی طرف بھر پور طور پر نہ بڑھ سکیں، وہ خدا کو بھول کر ان میں مشغول رہیں یہاں تک کہ موت آجائے اور بے رحمی کے ساتھ ان کو ان کے مال ور جاہ سے جدا کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues