اپنا احتساب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۱
تذکیر القرآن التوبہ ۹ اور ان میں ایسے بھی ہیں جو تم پر صدقات کے بارے میں عیب لگاتے ہیں۔ اگر اس میں سے انہیں دے دیا جائے تو راضی رہتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ اللہ ہمارے لئے کافی ہے۔ اللہ اپنے فضل سے ہم کو اور بھی دے گا اور اس کا رسول بھی، ہم کو تو اللہ ہی چاہئے۔ صدقات (زکوٰة) تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان کارکنوں کے لئے جو صدقات کے کام پر مقرر ہیں۔ اور ان کے لئے جن کی تالیف قلب مطلوب ہے۔ نیز گردنوں کے چھڑانے میں اور جو تا وان بھریں اور اللہ کے راستہ میں اور مسافر کی امداد میں۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ ۴۰- ۵۸ یہاں زکوٰة کے مصارف بتائے گئے ہیں۔ یہ مصارف قرآن کی تصریح کے مطابق آٹھ ہیں :
فقراء جن کے پاس کچھ نہ ہو مساکین جن کو بقدر حاجت میسر نہ ہو عاملین جو اسلامی حکومت کی طرف سے صدقات کی وصولی اور اس کے حساب کتاب پر مامور ہوں مولفۃ القلوب جن کو اسلام کی طرف راغب کرنا مقصود ہو یا جو اسلام میں کمزور ہوں رقاب غلاموں کو آزادی دلانے کے لئے یا اسیروں کا فدیہ دے کر انہیں رہا کرنے کے لئے غارمین جو مقروض ہو گئے ہوں یا جن کے اوپر ضمانت کا بار ہو سبیل اللہ دعوت دین اور جہاد فی سبیل اللہ کی مدد میں ابن السبیل مسافر جو حالت سفر میں ضرورت مند ہو جائے خواہ اپنے مکان پر مستغنی ہو اجتماعی نظم کے تحت جب زکوٰة و صدقات کی تقسیم کی جائے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو حق تلفی یا غیر منصفانہ تقسیم کی شکایت ہو جاتی ہے۔ مگر ایسی شکایت اکثر خود شکایت کرنے والے کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ تقسیم کا ذمہ دار خواہ کتنا ہی پاکباز ہو، لوگوں کی حرص اور ان کا محدود طرز فکر بہر حال اس قسم کی شکایتیں نکال لے گا۔ مزید یہ کہ اس قسم کی شکایت سب سے زیادہ آدمی کے اپنے خلاف پڑتی ہے، وہ آدمی کے فکری امکانات کو بروئے کار لانے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ آدمی اگر شکایتی مزاج کو چھوڑ کر ایسا کرلے کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اس پر وہ راضی ہو جائے اور اپنی سوچ کا رخ اللہ کی طرف کرے تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ اس کے اندر نئی ہمت پیدا ہوگی۔ اس کے اندر چھپی ہوئی ایجابی صلاحیتیں جاگ اٹھیں گی۔ وہ ملی ہوئی رقم کو زیادہ کار آمد مصرف میں لگائے گا ۔ عطیات پر انحصار کرنے کے بجائے اس کے اندر اپنے آپ پر اعتماد کرنے کا ذہن ابھرے گا ۔ وہ خدا کے بھروسہ پر نئے اقتصادی مواقع کی تلاش کرنے لگے گا۔ دوسروں سے بیزاری کے بجائے دوسروں کو ساتھی بنا کر کام کرنے کا جذبہ اس کے اندر پیدا ہوگا، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues