اپنا احتساب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۲
اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہے۔ کہو کہ وہ تمہاری بھلائی کے لئے کان ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور وہ رحمت ہے ان کے لئے جو تم میں اہل ایمان ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ و ہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو راضی کریں۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہیں کہ وہ اس کو راضی کریں اگر وہ مومن ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے مدینہ کے منافقین اپنی نجی مجلسوں میں اسلامی شخصیتوں کا مذاق اڑاتے۔ مگر جب وہ مسلمانوں کے سامنے آتے تو قسم کھا کر یقین دلاتے کہ وہ اسلام کے وفادار ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان مدینہ میں طاقت ور تھے۔ وہ منافقین کو نقصان پہنچانے کی حیثیت میں تھے۔ اس لئے منافقین مسلمانوں سے ڈرتے تھے۔
اس سے منافق کے کردار کا اصل پہلو سامنے آتا ہے۔ منافق کی دینداری انسان کے ڈر سے ہوتی ہے نہ کہ خدا کے ڈر سے۔ وہ ایسے مواقع پر اخلاق و انصاف والا بن جاتا ہے جہاں انسان کا دباؤہو یا عوام کی طرف سے اندیشہ لاحق ہو۔ مگر جہاں اس قسم کا خطرہ نہ ہو اور صرف خدا کا ڈر ہی وہ چیز ہو جو آدمی کی زبان کو بند کرے اور اس کے ہاتھ پاؤں کو روکے تو وہاں وہ بالکل دوسرا انسان ہوتا ہے۔ اب وہ ایک ایسا شخص ہوتا ہے جس کو نہ با اخلاق بننے سے کوئی دل چسپی ہو اور نہ انصاف کا رویہ اختیار کرنے کی کوئی ضرورت۔
جو لوگ مصلحتوں میں گرفتار ہوتے ہیں اور اس بنا پر تحفظات سے اوپر اٹھ کر خدا کے دین کا ساتھ نہیں دے۔ پاتے وہ عام طور پر معاشرہ کے صاحب حیثیت لوگ ہوتے ہیں۔ اپنی حیثیت کو باقی رکھنے کے لئے وہ ان لوگوں کی تصویر بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو سچے اسلام کو لے کر اٹھے ہیں۔ وہ ان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی مہم چلاتے ہیں۔ ان کو طرح طرح سے بدنام کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں بے بنیاد قسم کے اعتراضات نکالتے ہیں۔
ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ بے حد سنگین بات ہے۔ یہ اہل ایمان کی مخالفت نہیں بلکہ خود خدا کی مخالفت ہے۔ یہ خدا کا حریف بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اگر اپنی معصومیت ثابت کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اقرار کرتے اور کم از کم دل سے اسلام کے داعیوں کے خیر خواہ ہوتے تو شاید وہ قابل معافی ٹھہرتے۔ مگر ضد اور مخالفت کا طریقہ اختیار کر کے انھوں نے اپنے کو خدا کے دشمنوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ اب رسوائی اور عذاب کے سوا ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔
اللہ کا ڈر آدمی کے دل کو نرم کر دیتا ہے۔ وہ لوگوں کی بے بنیاد باتوں کو بھی خاموشی کے ساتھ سن لیتا ہے، یہاں تک کہ نادان لوگ کہنے لگیں کہ یہ تو سادہ لوح ہیں، باتوں کی گہرائی کو سمجھتے ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues