اپنا احتساب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۳
تذکیر القرآن التوبہ ۹ منافقین ڈرتے ہمیں کہ کہیں مسلمانوں پر ایسی سورہ نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کے بھیدوں سے آگاہ کر دے۔ کہو کہ تم مذاق اڑالو، اللہ یقیناً اس کو ظاہر کر دے گا جس سے تم ڈرتے ہو۔ اور اگر تم ان سے پوچھو تو وہ کہیں گے کہ ہم تو ہنسی اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہو، کیا تم اللہ سے اور اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ہنسی دل لگی کر رہے تھے۔ بہانے مت بناؤ، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر دیں تو دوسرے گروہ کو تو ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں (۴۴-۶۴ غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ میں یہ فضا تھی کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ ارباب عزیمت شمار ہو رہے تھے اور جو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تھے وہ منافق اور پست ہمت سمجھے جاتے تھے۔ بیٹھ رہنے والے منافقین نے رسول اور اصحاب رسول کے عمل کو کم تر ظاہر کرنے کے لئے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا:کسی نے کہا : یہ قرآن پڑھنے والے ہیں تو اس کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتے کہ وہ ہم میں سب سے زیادہ بھوکے ہیں، ہم میں سب سے زیادہ جھوٹے ہیں اور ہم میں سب سے زیادہ بزدل ہیں (ما رای قرء ارنا هؤلاء الا ارغبنا بطونا و اکذبنا السنة واجبننا عند اللقاء) کسی نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ رومیوں سے لڑنا بھی ویساہی ہے جیسا عربوں کا آپس میں لڑنا۔ خدا کی قسم کل یہ سب لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے نظر آئیں گے (اتحسبون جلاد بنی الاصفر كقتال العرب بعضهم بعضا والله لكانا بكم غد اًمقرنین في الحبال) کسی نے کہا: یہ صاحب سمجھتے ہیں کہ وہ روم کے محل اور ان کے قلعے فتح کرنے جا رہے ہیں، ان کی حالت پر افسوس ہے (ليظنن هذا ان يفتح قصور الروم وحصونها، هيهات هيهات، تفسیر ابن کثیر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھا۔ وہ کہنے لگے: ہم تو صرف ہنسی کھیل کی باتیں کر رہے تھے (انما كنا نخوض ونلعب) اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا اللہ اور اس کے احکام اور اس کے رسول کے معاملہ میں تم ہنسی کھیل کر رہے تھے۔
اللہ اور رسول کی بات ہمیشہ کسی آدمی کی زبان سے بلند ہوتی ہے۔ یہ آدمی اگر دیکھنے والوں کی نظر میں بظاہر معمولی ہو تو وہ اس کا استہز ا ءکرنے لگتے ہیں۔ مگر یہ استہزاء اس آدمی کا نہیں ہے خود خدا کا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں، ان کی جھوٹی تاویلیں ان کی حقیقت کو چھپانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
نفاق اور ارتداد دونوں ایک ہی حقیقت کی دو صورتیں ہیں۔ آدمی اگر اسلام اختیار کرنے کے بعد کھلم کھلا منکر ہو جائے تو یہ ارتداد ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ ذہن اور قلب کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور ہو مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرے تو یہ نفاق ہے، ایسے منافقین کا انجام خدا کے یہاں وہی ہے جو مرتدین کا ہے، الآیۃ کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی غلطیوں کا اقرار کر کے اپنی اصلاح کر لیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues