Al-Risala · February 1982 · page 24

اپنا احتساب

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۴

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں۔ وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرنے ہیں، اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔ انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بے شک منافقین بہت نافرمان ہیں۔ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے اللہ نے جہنم کی آگ کا وعدہ کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ان کے لئے بس ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لئے قائم رہنے والا عذاب ہے۔ جس طرح تم سے اگلے لوگ، وہ تم سے زور میں زیادہ تھے اور مال واولاد کی کثرت میں تم سے بڑھے ہوئے تھے تو انھوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا اور تم نے بھی اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا، جیسا کہ تمھارے اگلوں نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھایا تھا۔ اور تم نے بھی وہی بحثیں کیں جیسی بحثیں انھوں نے کی تھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو گئے اور یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔ کیا انھیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزرے ــــــــ قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اصحاب مدین اور الٹی ہوئی بستیوں کی۔ ان کے پاس ان کے رسول دلیلوں کے ساتھ آئے۔ تو ایسا نہ تھا کہ اللہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ۔ ۷۰ - ۶۷۔ پہلے لوگوں کو خدا نے جاہ و مال دیا تو انھوں نے اس سے فخر اور گھمنڈ اور بے حسی کی غذالی۔ تاہم بعد والوں نے ان کے انجام سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ انھوں نے بھی دنیا کے ساز و سامان سے اپنے لئے وہی حصہ پسند کیا جس کو ان کے پچھلوں نے پسند کیا تھا۔ یہی ہر دور میں عام آدمی کا حال رہا ہے۔ وہ حق کے تقاضوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مال و اولاد کے تقاضے ہی اس کے نزدیک سب سے بڑی چیز ہوتے ہیں۔

منافق کا حال بھی باعتبارِ حقیقت یہی ہوتا ہے۔ وہ ظاہری طور پر تو مسلمانوں جیسا نظر آتا ہے۔ مگر اس کے جینے کی سطح وہی ہوتی ہے جو عام دنیا داروں کی سطح ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض نمائشی اعمال کو چھوڑ کر حقیقی زندگی میں وہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسے عام دنیا دار ہوتے ہیں۔ منافق کی قلبی دلچسپیاں دیندار کے مقابلہ میں دنیا داروں سے زیادہ وابستہ ہوتی ہیں۔ آخرت کی مد میں خرچ کرتے سے اس کا دل تنگ ہوتا ہے مگر بے فائدہ دنیوی مشغولوں میں خرچ کرنا ہو تو وہ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتا ہے۔ حق کا فروغ اس کو پسند نہیں آتا البتہ ناحق کا فروغ ہو تو اس کو وہ شوق سے گوارا کرتا ہے۔ ظاہری دین داری کے باوجود وہ خدا اور آخرت کو اس طرح بھولا رہتا ہے جیسے اس کے نزدیک خدا اور آخرت کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

ایسے لوگ اپنے ظاہری اسلام کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ دنیا میں ان کے لئے لعنت ہے اور آخرت میں ان کے لئے عذاب۔ دنیا میں بھی وہ خدا کی رحمتوں سے محروم رہیں گے اور آخرت میں بھی۔ خدا کے ساتھ کامل وابستگی ہی وہ چیز ہے جو آدمی کے عمل میں قیمت پیدا کرتی ہے۔ کامل وابستگی کے بغیر جو عمل کیا جائے، خواہ وہ بظاہر دینی عمل کیوں نہ ہو، وہ آخرت میں اسی طرح بے قیمت قرار پائے گا جیسے روح کے بغیر کوئی جسم، جو جسم سے ظاہری مشابہت کے باوجود عملاً بے قیمت ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page