اپنا احتساب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بے شک اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے باغوں کا کہ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ، ان میں وہ ہمیشہ ۔ یہیں گے۔ اور وعدہ ہے ، ستھرے مکانوں کا ہمیشہ کے باغوں میں ، اور اللہ کی رضا مندی جو سب سے بڑھ کر ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے ۔ ۷۱-۷۲۔
منافقانہ طور پر اسلام سے وابستہ رہنے والے لوگوں میں جو خصوصیات ہوتی ہیں وہ ہیں آخرت سے غفلت ، دنیوی ضرورتوں سے دل چسپی ، بھلائی کے ساتھ تعاون سے دوری اور نمائشی کاموں کی طرف رغبت۔ ان مشترک خصوصیات کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے خوب ملے جلے رہتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کو مشترک دل چسپی کا موضوع گفتگو دیتی ہیں۔ اس سے انھیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا میدان حاصل ہوتا ہے۔ یہ ان کے لئے باہمی تعلقات کا ذریعہ بنتا ہے۔
یہی معاملہ ایک اور شکل میں سچے اہلِ ایمان کا ہوتا ہے، ان کے دل میں خدا کی لگن لگی بوئی ہوتی ہے۔ ان کو سب سے زیادہ آخرت کی فکر ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی چیزوں سے بطورِ ضرورت تعلق رکھتے ہیں نہ کہ بطور مقصد۔ خدا کی پسند کا کام ہو رہا ہو تو ان کا دل فوراً اس کی طرف کھنچ اٹھتا ہے۔ برائی کا کام ہو تو اس سے ان کی طبیعت ابا کرتی ہے۔ ان کی زندگی اور ان کا اثاثہ سب سے زیادہ خدا کے لئے ہوتا ہے نہ کہ اپنے لئے۔ وہ خدا کی یاد کرنے والے اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
اہلِ ایمان کے یہ مشترک اوصاف انھیں ایک دوسرے سے قریب کر دیتے ہیں۔ سب کی دوڑ خدا کی طرف ہوتی ہے۔ سب کی اطاعت کا مرکز خدا کا رسول ہوتا ہے۔ جب وہ ملتے ہیں تو یہی وہ باہمی دلچسپی کی چیزیں ہوتی ہیں جن پر وہ بات کریں۔ انھیں اوصاف کے ذریعہ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔ اسی کی بنیاد پر ان کے آپس کے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ اسی سے انھیں وہ مقصد ہاتھ آتا ہے جس کے لئے وہ متحدہ کوشش کریں ۔ اسی سے ان کو وہ نشانہ ملتا ہے جس کی طرف سب مل کر آگے بڑھیں۔
دنیا میں اہلِ ایمان کی زندگی ان کی آخرت کی زندگی کی تمثیل ہے۔ دنیا میں اہلِ ایمان اس طرح جیتے ہیں جیسے ایک باغ میں بہت سے شاداب درخت کھڑے ہوں۔ ہر ایک دوسرے کے حسن میں اضافہ کر رہا ہو۔ ان درختوں کو فیضان خدا وندی سے نکلنے والے آنسو سیراب کر رہے ہوں ۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا اس طرح خیر خواہ اور ساتھی ہو کہ پورا ماحول امن و سکون کا گہوارہ بن جائے ۔ رہی ربانی زندگی آخرت میں جنتی زندگی میں تبدیل ہو جائے گی۔ وہاں آدمی نہ صرف اپنی ہوئی ہوئی فصل کاٹے گا بلکہ خدا کی خصوصی رحمت سے ایسے انعامات پائے گا جن کا اس سے پہلے اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues