اپنا احتساب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۶
اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر کڑے بن جاؤ۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے ۔ وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انھوں نے نہیں کہا۔ حالاں کہ انھوں نے کفر کی بات کہی اور وہ اسلام ءکے بعد کافر ہو گئے اور انھوں نے وہ چاہا جو انھیں حاصل نہ ہو سکی۔ اور یہ صرف اس کا بدلہ تھا کہ ان کو اللہ اور رسول نے اپنے فضل سے غنی کر دیا۔ اگر وہ توبہ کریں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اعراض کریں تو خدا ان کو درد ناک عذاب دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور زمین میں ان کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ مددگار ۴ - ۷۴۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تقریباً منافقین مدینہ میں موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ منافقین سے جس جہاد کا حکم دیا گیا ہے وہ جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ ان منافقین کا خاتمہ کر دیتے ۔ اس سے مراد دراصل وہ جہاد ہے جو زبان اور برتی اور شدت احتساب کے ذریعہ کیا جاتا ہے (امر بالجهاد مع المنافقين باللسان وشدة الزجر والتغليظ، قرطبی عن ابن عباس) چنانچہ جمہور امت کے نزدیک منافقین کے مقابلہ میں جہاد بالسيف مشروع نہیں ہے منافقت یہ ہے کہ آدمی اسلام کو اس طرح اختیار کرے کہ وہ اس کو مفادات اور مصلحتوں کے تابع کئے ہوئے ہو۔ اس قسم کے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ کچھ خدا کے بندے غیر مصلحت پرستانہ انداز میں اسلام کو اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں تو ایسا اسلام انھیں اپنے اسلام کو بے وقعت ثابت کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ایسے داعیوں سے انھیں سخت نفرت ہو جاتی ہے۔ وہ ان کو اکھاڑنے کے درپے ہو جاتے ہیں جس اسلام کے نام پر وہ اپنی تجارتیں قائم کرتے ہیں اسی اسلام کے داعیوں کے دشمن بن جاتے ہیں ۔ منافقین کی یہ دشمنی سازش اور استہزا کے انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر وہ کسی کو دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر کسی وجہ سے سچے اسلام کے داعیوں کے بارے میں مخالفانہ جذبات ہیں تو وہ اس کو ابھارتے ہیں تاکہ وہ ان سے لڑ جائے۔ وہ مخلص اہل ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے ان کی مستربانیاں بے حقیقت معلوم ہونے لگیں۔ وہ ان کی معمولی باتوں کو اس طرح بگاڑ کر پیش کرتے ہیں کہ عوام میں ان کی تصویر خراب ہو جائے۔ تبوک کے سفر میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک پڑاؤ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی کچھ مسلمان اس کو تلاش کرنے کے لئے نکلے۔ یہ بات منافقوں کو معلوم ہوئی تو انھوں نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا: یہ صاحب ہم کو آسمان کی خبریں بتاتے ہیں۔ مگر ان کو اپنی اونٹنی کی خبر نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہے ۔ منافق مسلمان سچے اسلام کے داعیوں کو ناکام کرنے کے لئے شیطان کے آلہ کار بنتے ہیں۔ مگر سچے اسلام کے داعیوں کا مددگار ہمیشہ خدا ہوتا ہے۔ وہ منافقوں کی تمام سازشوں کے باوجود ان کو بچا لیتا ہے۔ اور منافقین کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا جرم ثابت کر کے اس کے مستحق بنتے ہیں کہ ان کو دنیا میں بھی عذاب دیا جائے اور آخرت میں بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues