Al-Risala · February 1982 · page 27

اپنا احتساب

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۷

اور ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اس نے ہم کو اپنے فضل سے عطا کیا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم صالح بن کر رہیں گے۔ پھر جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا تو وہ بخل کرنے لگے اور برگشتہ ہو کر منہ پھیر لیا۔ پس اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا اس دن تک کے لئے جب کہ وہ اس سے ملیں گے اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے۔ کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ان کے راز اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور اللہ تمام چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا ہے۔ وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں ان مسلمانوں پر جو دل کھول کر صدقات دیتے ہیں اور جو صرف اپنی محنت مزدوری سے انفاق کرتے ہیں ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ تم ان کے لئے معافی کی درخواست کر دیا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ انہیں معاف کرنے کی درخواست کرو گے تو اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کا انکار کیا اور اللہ نافرمانوں کو راہ نہیں دکھاتا۔ ۸۰ - ۷ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے لئے دعا کیجئے کہ خدا مجھے مال دیدے۔ آپ نے فرمایا: تھوڑے مال پر شکر گزار ہونا اس سے بہتر ہے کہ تم کو زیادہ مال ملے اور تم شکر ادا نہ کر سکو۔ مگر ثعلبہ نے باربار درخواست کی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ خدایا ثعلبہ کو مال دے دے۔ اس کے بعد ثعلبہ نے بکری پالی۔ اس کی نسل اتنی بڑھی کہ مدینہ کی زمین ان کی بکریوں کے لئے تنگ ہو گئی۔ ثعلبہ نے مدینہ کے باہر ایک وادی میں رہنا شروع کیا۔ اب ثعلبہ کے اسلام میں کمزوری آنا شروع ہوئی۔ پہلے ان کی جماعت کی نماز چھوٹی۔ پھر جمعہ چھوٹ گیا۔ حتی کہ یہ نوبت آئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عامل ثعلبہ کے پاس زکوٰۃ لینے کے لئے گیا تو ثعلبہ نے زکوٰۃ نہیں دی اور کہا کہ زکوٰۃ تو جزیہ کی بہن معلوم ہوتی ہے (ماھٰذ ہ الا جزية، ما هذه الااخت الجزية) وہ شخص خدا کی نظر میں منافق ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ مال کے لئے خدا سے دعائیں کرے اور جب خدا اس کو مال والا بنا دے تو وہ اپنے مال میں خدا کا حق نکالنا بھول جائے۔ آدمی کے پاس مال نہیں ہوتا تو وہ مال والوں کو برا کہتا ہے کہ یہ لوگ مال کو غلط کاموں میں برباد کرتے ہیں۔ اگر خدا مجھ کو مال دے تو میں اس کو خیر کے کاموں میں خرچ کروں۔ مگر جب اس کے پاس مال آتا ہے تو اس کی نفسیات بدل جاتی ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ پہلے اس نے کیا کہا تھا اور کن جذبات کا اظہار کیا تھا۔ اب وہ مال کو اپنی محنت اور لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر تنہا اس کا مالک بن جاتا ہے۔ خدا کا حق ادا کرنا اسے یاد نہیں رہتا۔

اس قسم کے لوگ اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے مزید سرکشی یہ کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ کسی نے زیادہ دیا تو اس کو ریا کار کہہ کر گراتے ہیں۔ اور کسی نے اپنی حیثیت کی بنا پر کم دیا تو کہتے ہیں کہ خدا کو اس آدمی کے صدقہ کی کیا ضرورت تھی۔ جو لوگ اتنا زیادہ اپنے آپ میں گم ہوں انہیں اپنے آپ سے باہر کی اعلیٰ حقیقتیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page