اپنا احتساب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۸
رہ جانے والے اللہ کے رسول سے پیچھے بیٹھ رہنے پر بہت خوش ہوئے اور ان کو گراں گزرا کہ وہ اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اور اوں نے کہا کہ گرمی میں نہ نکلو۔ کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے، کاش انہیں سمجھ ہوتی۔ پس وہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ، اس کے بدلے میں جووہ کرتے تھے۔ پس اگر اللہ تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لائے اور وہ تم سے جہاد کے لئے نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ کبھی نہیں چلو گے اور نہ میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے لڑو گے ۔ تم نے پہلی بار بھی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا پس پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر تم کبھی نماز نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو۔ بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور وہ اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے ۸۳ - ۸۱ غزوہ تبوک سخت گرمی کے موسم میں ہوا۔ مدینہ سے چل کر شام کی سرحد تک تین سو میل جانا تھا۔ منافق مسلمانوں نے کہا کہ ایسی تیز گرمی میں اتنا لمبا سفر نہ کرو۔ یہ کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ خدا کی پکار سننے کے بعد کسی خطرہ کی بنا پر نہ نکلنا اپنے آپ کو شدید تر خطرہ میں مبتلا کرنا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دھوپ سے بھاگ کر آگ کے شعلوں کی پناہ لی جائے۔ جو لوگ خدا کے مقابلہ میں اپنے کو اور اپنے مال کو زیادہ محبوب رکھتے ہیں وہ جب اپنی خوبصورت تدبیروں سے اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وہ مسلمان بھی بنے رہیں اور اسی کے ساتھ ان کی زندگی اور ان کے مال کو کوئی خطرہ نہ لاحق نہ ہو تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ وہ اپنے کو عقل مند سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کو بیوقوف کہتے ہیں جنہوں نے خدا کی رضا کی خاطر اپنے کو ہلکان کر رکھا ہو۔
مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ یہ ایسا ہنسنا ہے جس کا انجام رونے پر ختم ہونے والا ہے۔ کیونکہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں اس قسم کی ہوشیاری " سب سے بڑی نادانی ثابت ہوگی۔ اس وقت آدمی افسوس کرے گا کہ وہ جنت کا طلب گار تھا مگر اس نے اپنے اثاثہ کی وہی چیز اس کے لئے نہ دی جو دراصل جنت کی واحد قیمت تھی۔ اس قسم کے منافق ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی تحفظاتی پالیسی کی وجہ سے اپنے گرد مال و جاہ کے اسباب جمع کر لیتے ہیں اس بنا پر عام مسلمان ان سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔ ان کی شان دار زندگیاں اور ان کی خوبصورت باتیں لوگوں کی نظر میں ان کو عظیم بنا دیتی ہیں۔ یہ کسی اسلامی معاشرہ کے لئے ایک سخت امتحان ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ میں ایسے لوگوں کو نظر انداز کیا جانا چاہیے، نہ یہ کہ ان کو عزت کا مقام دیا جانے لگے۔ جن لوگوں کے بارے میں پوری طرح معلوم ہو جائے کہ وہ بظاہر مسلمان بنے ہوئے ہیں مگر حقیقتاً وہ اپنے مفادات اور اپنی دنیوی مصلحتوں کے وفادار ہیں ان کو حقیقی اسلامی معاشرہ کبھی عزت کے مقام پر بٹھانے کے لئے راضی نہیں ہو سکتا۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہے کہ وہ اسلامی تقریبات میں صرف پیچھے پیچھے کی صفوں میں جگہ پائیں۔ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں ان کا کوئی دخل نہ ہو۔ دینی مناصب کے لئے وہ نا اہل قرار پائیں۔ جس معاشرہ میں ایسے لوگوں کا عزت کا مقام ملا ہوا ہو وہ کبھی خدا کا پسندیدہ معاشرہ نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues