اپنا احتساب
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۲۹
اور ان کے مال اور ان کی اولاد تم کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ تو چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے ان کو دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ منکر ہوں۔ اور جب کوئی سورہ اترتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ جہاد کرو تو ان کے مقدور والے تم سے رخصت مانگنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو چھوڑ دیجیے کہ ہم یہاں ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہ جائیں۔ انھوں نے اس کو پسند کیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی پس وہ کچھ نہیں سمجھتے لیکن رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں انھوں نے اپنے مال اور جان سے جہاد کیا اور انھیں کے لیے ہیں خوبیاں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ ان کے لیے اللہ نے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے ۸۹ - ۸۵ منافق اپنے دنیا پرستانہ طریقوں کی وجہ سے اپنے اُس پاس دنیا کا ساز و سامان جمع کر لیتا ہے۔ اس کے ساتھ مددگاروں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیزیں سطحی قسم کے لوگوں کے لیے مرعوب کن بن جاتی ہیں۔ لیکن گہری نظر سے دیکھنے والوں کے لئے اس کی ظاہری چمک دمک قابل رشک نہیں بلکہ قابل عبرت ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں جن لوگوں کے پاس جمع ہوں وہ ان کے لئے خدا کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ خدا کا محبوب بندہ وہ ہے جو کسی تحفظ اور کسی مصلحت کے بغیر خدا کی طرف بڑھے۔ مگر جو لوگ دنیا کی رونقوں میں گھرے ہوئے ہوں وہ ان سے اوپر نہیں اٹھ پاتے۔ جب بھی وہ خدا کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں ان کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ کھو دیں گے۔ وہ اس قربانی کی ہمت نہیں کر پاتے۔ اس لئے وہ خدا کے وفادار بھی نہیں ہوتے۔ ان کی دنیوی ترقیاں ان کو اس بربادی کی قیمت پر ملتی ہیں کہ آخرت میں وہ بالکل محروم ہو کر یہ حاضر ہوں۔
ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب خدا کا دین کہتا ہے کہ اپنی انا کو دفن کر کے خدا کو پکڑ لو تو وہ اپنی بڑھی ہوئی انا کو دفن نہیں کر پاتے۔ جب خدا کا دین ان سے شہرت اور مقبولیت سے خالی راستوں پر چلنے کے لئے کہتا ہے تو وہ اپنی شہرت و مقبولیت کو سنبھالنے کی فکر میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ جب خدا کے دین کی جدوجہد زندگی اور مال کی قربانی مانگتی ہے تو ان کو اپنی زندگی اور مال اتنے قیمتی نظر آتے ہیں کہ وہ اس کو غیر دنیوی مقصد کے لئے قربان نہ کر سکیں ۔
یہ کیفیت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ان کے دل کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ بے حسی کا شکار ہو کر اس تڑپ کو کھو دیتے ہیں جو آدمی کو خدا کی طرف کھینچے اور غیر خدا پر راضی نہ ہونے دے۔ اس کے برعکس جو سچے اہل ایمان ہیں وہ سب سے بڑا مقام خدا کو دے ہوتے ہیں اس لئے دوسری ہر چیز انھیں خدا کے مقابلہ میں ہیچ نظر آتی ہے۔ وہ ہر قربانی دینے کر خدا کی طرف بڑھنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے خدا کی رحمتیں اور نعمتیں ہیں۔ ان کے اور خدا کی ابدی جنت کے درمیان موت کے سوا کوئی چیز حائل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues