Al-Risala · February 1982 · page 30

اپنا احتساب

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۰

تذکیر القرآن التوبہ ۹ بدو کی عربوں میں سے بھی بہانہ کرنے والے آئے کہ انہیں اجازت مل جائے، اور جو اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولے وہ بیٹھ رہے۔ ان میں سے جنہوں نے انکار کیا ان کو ایک دردناک عذاب پکڑے گا۔ کوئی گناہ کمزوروں پر نہیں ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جو خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی کریں۔ نیک کاروں پر کوئی الزام نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے کہ جب تمہارے پاس آئے کہ تم ان کو سواری دو۔ تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ تم کو اس پر سوار کر دوں تو وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس غم میں کہ انہیں کچھ میسر نہیں جو وہ خرچ کریں۔ الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جو تم سے اجازت مانگتے ہیں حالانکہ وہ مال دار ہیں۔ وہ اس پر راضی ہو گئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی، پس وہ نہیں جانتے ۔ ۹۳ - ۹۰۔

دعوت دین کی جدوجہد جب لوگوں سے ان کی زندگی اور ان کے مال کا تقاضا کر رہی ہو اس وقت صاحب استطاعت ہونے کے باوجود عذر کر کے بیٹھ رہنا بدترین جرم ہے۔ یہ دینی پکار کے معاملہ میں بے حسی کا ثبوت ہے۔ ایک مسلمان کے لئے اس قسم کا رویہ خدا اور رسول سے غداری کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے لوگ خدا کی رحمتوں میں کوئی حصہ پانے کے حقدار نہیں ہیں۔ ان کے پاس جو کچھ تھا اس کو جب انہوں نے خدا کے لئے پیش نہیں کیا تو خدا کے پاس جو کچھ ہے وہ کس لئے انھیں دیدے گا۔ قیمت ادا کئے بغیر کوئی چیز کسی کو نہیں مل سکتی۔

تاہم معذورین کے لئے خدا کے یہاں معافی ہے۔ جو شخص بیمار ہو اور جس کے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ نہ ہو، جو اسباب سفر نہ رکھتا ہو، ایسے لوگوں سے خدا درگزر فرمائے گا۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود سب کچھ ان کے خانہ میں لکھ دیا جائے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ غزوہ تبوک سے واپس ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم کوئی راستہ نہیں چلے اور تم نے کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ برابر تمہارے ساتھ رہے (ان بالمدینة اقواماً ما قطعتم واديا ولاستم سيرا الا بهم معكم)

یہ خوش قسمت لوگ کون ہیں جو نہ کرنے کے باوجود کرنے کا انعام پاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معذور ہونے کے ساتھ تین باتوں کا ثبوت دیں ________ نفع ، یعنی علی شرکت نہ کرتے ہوئے بھی قلبی شرکت۔ احسان ، یعنی عدم شرکت کے باوجود کم از کم زبان سے ان کے بس میں جو کچھ ہے اس کو پوری طرح کرتے رہنا۔ حزن ، یعنی اپنی کوتاہی پر اتنا شدید رنج جو آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑے۔

کوئی آدمی جب اپنی عملی زندگی میں ایک چیز کو غیر اہم درجہ میں رکھے اور بار بار ایسا کرتا رہے تو اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ اس چیز کی اہمیت کا احساس اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اس چیز کے تقاضے اس کے سامنے آتے ہیں مگر دل کے اندر اس کے بارے میں تڑپ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کی طرف بڑھ نہیں پاتا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو بے حسی کہا جاتا ہے اور اسی کو قرآن میں دلوں پر مہر کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page