Al-Risala · February 1982 · page 35

ثواب

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۵

ثواب

جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے پیسہ دیا ہے وہ عام طور پر ایسا کرتے ہیں کہ اپنے ملازموں اور ماتحت کارکنوں کو تو صرف واجبی تنخواہ یا اجرت دیتے ہیں۔ دوسری طرف کانفرنس یا ریلیف فنڈ یا مشہور اداروں کو بڑی بڑی رقمیں دے کر خوش ہوتے ہیں۔ اگر ان سے پوچھیئے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو وہ کہیں گے کہ ملازم یا کارکن کو جو رقم دی جاتی ہے وہ تو ان کے کام کی اجرت ہوتی ہے۔ اس پر ہم کو ثواب نہیں ملے گا۔ انھوں نے ہماری خدمت کی اور ہم نے ان کو معاوضہ دے دیا۔ اس پر ثواب کیسا۔ یہ تو دونوں طرف سے معاملہ برابر ہو گیا۔ اس کے برعکس اداروں اور ملی کاموں میں جو رقم دی جاتی ہے ان کے متعلق یقینی ہے کہ ان پر ثواب ملے گا۔

مگر اس کی تہ میں اصل بات کچھ اور ہے اور یہ جواب محض اصل بات پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے دل میں یہ چھپی ہوئی خواہش موجود ہے کہ وہ جو کچھ دے اس کا معاوضہ اس کو اسی دنیا میں ملے۔ غریب آدمی یہ معاوضہ پیسہ کی صورت میں چاہتا ہے۔ مگر جن لوگوں کے پاس کافی پیسہ آجاتا ہے ان کو جس معاوضہ کی تمنا ہوتی ہے وہ سماجی حیثیت (سوشل اسٹیٹس) ہے۔ یہی وہ چھپی ہوئی خواہش ہے جو اس قسم کے لوگوں کے انفاق کا رخ بڑی بڑی قابلِ ذکر مدوں کی طرف کر دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ غریب ملازم یا کارکن یہ معاوضہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کے پاس نہ اخبار ہوتا ہے نہ اسٹیج۔ اس کے پاس نہ اونچی بلڈنگوں والے ادارے ہیں اور نہ استقبال کرنے والا حلقہ۔ مگر ایک شخص جب کسی مشہور ادارہ یا کسی عظیم الشان، علیہم میں رقم دیتا ہے تو اس کو امید رہتی ہے کہ اس کو شان دار معاوضہ ملے گا۔ جلسوں کی صدارت، عوامی مواقع پر نمایاں نشست، اداروں میں پر زور استقبال، سماجی حیثیت میں اضافہ، اخباروں میں نام چھپنا اور بڑے بڑے لوگوں کی صف میں جگہ ملنا، وغیرہ ثواب کا تعلق نیت سے ہے نہ کہ قابلِ تذکرہ مدوں سے۔ ثواب حقیقتاً اس عمل میں ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لئے کیا گیا ہو۔ ثواب یہ ہے کہ اللہ کی خاطر ایسی مدوں میں دیا جائے جو لوگوں کو دکھائی نہیں دیتیں۔ ان مواقع پر خرچ کیا جائے جہاں ہر قسم کے دوسرے محرکات حذف ہو جاتے ہیں۔ جس انفاق کا فائدہ اسی دنیا میں وصول کر لیا گیا ہو اس کا فائدہ کسی کو آخرت میں ملے گا تو کیوں ملے گا۔ لوگ دکھائی دینے والے مقامات پر انفاق کر رہے ہیں حالاں کہ خدا ان کے انفاق کو قبول کرنے کے لئے اس مقام پر کھڑا ہوا ہے جو ظاہر پرست انسانوں کو دکھائی نہیں دیتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page