Al-Risala · February 1982 · page 36

جھوٹا استدلال

الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۳۶

جھوٹا استدلال

جنگ جمل میں حضرت زبیر بن العوام بھی شامل تھے۔ وہ حضرت علی کے خلاف تھے اور ان کے مخالف گروہ کے ساتھ شامل ہو کر حضرت علی سے لڑنے کے لئے آئے تھے۔ میدان جنگ میں ان کی گفتگو حضرت علی سے ہوئی ۔ اس کے بعد وہ واپس لوٹ گئے اور لڑائی میں شریک نہ ہوئے۔ ان کے لڑکے عبداللہ نے پوچھا کہ آپ نے کیوں ایسا کیا۔ انھوں نے جواب دیا : میں نے علی کے لشکر میں عمار بن یاسر کو دیکھا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ، جنگ جمل میں حضرت عمار بچ گئے البتہ اس کے بعد جنگ صفین میں مارے گئے۔ اس واقعہ کے بعد واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ حضرت علی کے مخالفین غلطی پر تھے۔ اس کھلی ہوئی دلیل کے باوجود مخالفین نے اپنی غلطی تسلیم نہ کی۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: عمار کو اس نے قتل کیا ہے جو ان کو میدان جنگ میں لایا تھا (انما قتله من جاء به الى الحرب) یہ توجیہ تیزی سے تمام مخالفین میں پھیل گئی اور سب نے اس کو درست سمجھ کر قبول کر لیا ۔ آدمی اگر نہ ماننا چاہے تو وہ کھلے ہوئے دلائل کے انکار کے لئے بھی کچھ نہ کچھ الفاظ پا لے گا۔ تاہم ایک سچی دلیل ہوتی ہے اور ایک جھوٹی دلیل۔ دنیا میں انسان کو آزادی ملی ہوئی ہے اس لئے یہاں وہ جھوٹی دلیل چلا سکتا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو وہاں تمام جھوٹے دلائل بالکل بے معنی ہو جائیں گے۔ وہاں اسی دلیل میں وزن ہوگا جو خدا کے نزدیک دلیل ہو، جس کا دلیل ہونا خدا کے محکم قوانین سے ثابت ہوتا ہو۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں آدمی کو ہر قسم کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہاں کا ایک برتن دودھ کو جس طرح قبول کرتا ہے اسی طرح وہ شراب کو بھی قبول کر لیتا ہے۔ ہر آدمی آزاد ہے کہ وہ اپنے برتن کو چاہے دودھ سے بھرے چاہے شراب سے۔ یہی حال انسانی الفاظ کا ہے۔ انسانی الفاظ میں بڑی لچک ہے۔ ایک باطل بات بھی الفاظ میں اسی طرح ڈھل جاتی ہے جس طرح ایک حق بات ۔

یہ صورتِ حال آدمی کو دھوکا دیتی ہے۔ وہ اپنی جھوٹی خواہشوں اور بے بنیاد خیالات کو الفاظ کی صورت دے کر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنا بر سر حق ہونا ثابت کر دیا۔ حالاں کہ یہ دھوکے کے سوا اور کچھ نہیں۔ بہت جلد یہ حالات ختم ہو جائیں گے۔ خدا امتحان کی دنیا کو توڑ کر انجام کی دنیا بنائے گا۔ اس وقت وہ آزادی چھن جائے گی جو آج امتحانی مصلحت کی بنا پر ہر ایک کو ملی ہوئی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو اس نے دلیل سمجھ رکھا تھا وہ محض ایک دھاندلی تھی ، وہ لفظی بازیگری تھی نہ کہ حقیقت بیانی ۔ اس وقت وہ جان لے گا کہ اس نے بے معنی الفاظ کو با معنی الفاظ سمجھ لیا تھا ، اگرچہ اس وقت کا جاننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues

Printed page