سب سے بڑا اندیشہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۲، صفحہ ۴۷
سب سے بڑا اندیشہ
وہ کون سا ڈر ہے جس کا اندیشہ سب کو ہو۔ اسے کا ایک ہی جواب ہو سکتا ہے، اور وہ موت ہے ، صرف موت ہی اس دنیا میں ایک ایسی چیز ہے جس کے اندیشے سے کوئی بھی شخص خالی نہیں۔
ایک غریب مزدور جو روز کماتا ہو اور روز کھاتا ہو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کسی دن مزدوری نہ ملی تو بھوکا رہنا ہو گا۔ مگر امیر آدمی کو اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک کمزور آدمی کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی معاملہ پڑ جائے تو مضبوط آدمی اس کو دبالے گا، مگر جو طاقت ور ہو اس کو اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک شخص قانون نہ جانتا ہو تو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کی جائداد پر کوئی شخص غلط طریقہ سے قبضہ نہ کرلے۔ مگر جو قاعدے قانون سے واقف ہو اس کو اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک شخص جس کی ملازمت ابھی عارضی ہو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کا افسر خفا ہو جائے اور اس کو برخاست نہ کر دے، مگر جو مستقل ہو چکا ہو اس کو اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک شخص کی آمدنی کم ہو تو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر خرچ کی کوئی مد زیادہ نکل آئی تو کیسے کام چلے گا، مگر جس کی آمدنی زیادہ ہو اس اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک چھوٹے دوکان دار کو اندیشہ ہوتا ہے کہ بازار کا بھاؤ خراب ہو گیا تو اس کا نقصان ہو جائے گا مگر بڑے بڑے تاجر جو بازار بھاؤ پر حکومت کرتے ہیں ان کو اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایک غریب شخص مقدمہ میں پھنس جائے تو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں مقدمہ ہار نہ جائے۔ مگر جو سرکار رس ہو اور جو بڑے بڑے وکیلوں کی فیس ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو اس کو اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں۔ کسی ملک میں جو شخص اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو اس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کی حق تلفی نہ کی جائے مگر اکثریتی فرقہ کے ایک فرد کے لئے اس قسم کا کوئی اندیشہ نہیں۔
غرض کوئی ایسا خطرہ اور اندیشہ نہیں ہے جو سب کے لئے یکساں ہو۔ ہر اندیشہ ایک کو ہوتا ہے تو دوسرے کو نہیں ہوتا۔ صرف موت اس دنیا میں ایک ایسی چیز ہے جس کے اندیشے سے کوئی بھی شخص خالی نہیں۔ موت کے آگے سارے لوگ بے بس ہیں۔ موت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو ہر ایک کو بہر حال تسلیم کرنی ہوتی ہے۔ موت ان لوگوں کو بھی آتی ہے جن کو نہ علاج کی سکت ہے اور نہ کوئی ان کی تیمار داری کرنے والا ہے، اور ان لوگوں کو بھی آتی ہے جن کی دیکھ بھال اور علاج کے لئے ڈاکٹروں اور نرسوں کی فوج لگی ہوتی ہے، اور جن کے لئے ہر وقت ہوائی جہاز کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بات ہو تو فوراً انہیں اڑا کر بہترین اسپتال اور بہترین صحت بخش مقام پر پہنچا دیں۔ موت کمزور کو بھی آتی ہے اور مضبوط کو بھی، مریض کو بھی اور تندرست کو بھی، بچہ کو بھی اور بوڑھے کو بھی، عورت کو بھی اور مرد کو بھی، رعایا کو بھی اور بادشاہ کو بھی، جاہل کو بھی اور سائنس داں کو بھی، کسی بھی شخص کو کوئی ایسی تدبیر نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1982 All issues