Al-Risala · March 1982 · page 14

شریعتوں میں فرق کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۱۴

بہ کوشش ہو کر رہ جائیں گی۔

یہ ذہنی بیداری یا فکری انقلاب ہی آج ملتِ اسلامی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ کسی حقیقی کام کا واحد آغاز یہ ہے کہ ملت کے افراد جو سماج رُوپی اسلام کی زمین پر ٹھہرے ہوئے ہیں، ان کو اس سے ہٹا کر دوبارہ کتاب روپی اسلام کی زمین پر کھڑا کیا جائے۔ اس کام کے قابلِ حد تک انجام پانے کے بعد ہی ان کے اندر ربانی شعور اور الہی کردار پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ ابتدائی مقصود جب تک حاصل نہ ہو، کوئی بڑا اقدام کرنا یا تو غیر سنجیدہ انسان کا کام ہو سکتا ہے یا اس شخص کا جس کی عقل جاتی رہی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری وہ تمام چیزیں جن کو ہم چاہتے ہیں وہ سب اسی فکری انقلاب کا ضمنی حاصل (By-product) ہیں۔ وہ سارے اہم ترین نتائج جن کے ہم منتظر ہیں وہ اسی ذہنی انقلاب کے بطن سے ظہور میں آتے ہیں۔ یہ فکری انقلاب توہمات کی زنجیروں کو توڑتا ہے جس سے علمی ترقیاں وجود میں آتی ہیں۔ یہ فکری انقلاب افراد کے اندر حوصلہ مندی پیدا کرتا ہے جس کے بعد وہ مختلف میدانوں میں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے لگتے ہیں۔ یہ فکری انقلاب لوگوں کے اندر آفاقیت پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہ غیر مفتوح کردار کے مالک بن جاتے ہیں۔ یہ فکری انقلاب اپنے متاثر افراد کے اندر ربانی شعور ابھارتا ہے جس کے بعد وہ ایسی بے پناہ منصوبہ بندی کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں جس کا توڑ کسی کے لئے ممکن نہ ہو۔ ذہنی انقلاب قوموں اور آبادیوں کو مسخر کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کے ماننے والوں کا دبدبہ زمین پر قائم ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ ذہنی انقلاب جہاں برپا ہوتا ہے وہاں بالکل قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے قدموں کے نیچے سے بھی رزق ابلتا ہے اور ان کے سروں کے اوپر بھی رزق برستا ہے۔ خدا اپنی دنیا بھی ان کے لئے لکھ دیتا ہے اور اپنی آخرت بھی۔

شریعتوں میں فرق کی حکمت

مذہبی جمود کو توڑنا اللہ تعالیٰ کو اتنا زیادہ مطلوب ہے کہ اس کے لئے اس نے ایک پیغمبر اور دوسرے پیغمبر کی شریعت میں فرق رکھا۔ مختلف پیغمبروں کا دین اگر چہ ایک تھا مگر ان کی شریعتوں میں باہم فرق رکھا گیا۔ اس فرق کی خاص حکمت یہی تھی۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریق عمل مقرر کیا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا۔ مگر اس نے ایسا اس لئے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کریں (المائدہ (۴۸) ہر امت کے لئے ہم نے ایک طریق عبادت مقرر کیا ہے جس کے وہ پیرو ہیں۔ پس وہ اس امر میں تم سے جھگڑا نہ کرو اور تم اپنے رب کی طرف

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page