شریعتوں میں فرق کی حکمت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۱۵
دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔ (الحج ۶۸) یہی بات تحویل قبلہ کے ذیل میں اس طرح فرمائی گئی ہے : اور ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جس ءکی طرف وہ مڑتاہے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو (البقرہ ۱۴۸) اس سلسلہ میں مزید ارشاد ہوا ہے کہ جس قبلہ پر تم اب تک تھے اس کو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لئے مقرر کیا تھا تاکہ ہم جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے (البقرہ ۱۴۳) شریعتوں میں فرق کی توجیہہ عام طور پر ارتقا کی اصطلاحوں میں کی جاتی ہے۔ یعنی خدا کی شریعت سادہ اور غیر کامل صورت سے ترقی کرکے کامل صورت تک پہنچی ہے اور شریعتوں کا باہمی فرق اسی سبب سے ہے۔ مگر یہ توجیہہ سراسر بے بنیاد ہے۔ قرآن میں واضح طور پر تبدیلی شریعت کا سبب ابتلا بتایا گیا ہے نہ کہ ارتقاء۔ شریعت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے دینی عقائد کا زندہ اظہار ہے۔ مگر ایک طریقہ پر نسل درنسل عمل کرتے کرتے ایسا ہوتا ہے کہ شریعت سے اس کی روح نکل جاتی ہے۔ وہ ایک ایسا خشک ڈھانچہ بن جاتی ہے جس سے آدمی کا نفسیاتی رشتہ ٹوٹ چکا ہو۔ اس وقت خدا شریعت کے قدیم ڈھانچہ کو بدل دیتا ہے تاکہ تقلیدی عمل کا خاتمہ ہو اور لوگ زندہ احساس اور تازہ فیصلہ کے تحت نئی شریعت کو اپنی زندگیوں میں اختیار کریں۔ اس وقت کھل جاتا ہے کہ کون شعور کے تحت خدا کی عبادت کر رہا تھا اور کون جمود اور تقلید کے تحت۔ بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو قبلہ قرار دینا تبدیلی شریعت کی ایک مثال ہے۔ اور اس کی وجہ قرآن میں یہ بتائی گئی ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ کون رسول کا متبع ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ یعنی اس بات کا امتحان کہ کون حقیقت کا پیرو ہے اور کون تقلیدی روایات کا۔ تقلیدی روایات کا پیرو اپنی مانوس عصبیتوں سے چمٹا رہے گا اور جو حقیقت کا پیرو ہے وہ تقلیدی عمل کو چھوڑ دے گا اور فوراً اصلی حکم پر قائم ہوجائے گا۔ پروگرام کا سوال اکثر لوگ احیار اسلام کی مہم کو اس کے ”پروگرام“ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کو اسی وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ انہیں ایک متعین پروگرام بتا دیا جائے۔ مگر پروگرام کو تحریک کا بدل سمجھنا تحریک کی وسعتوں کی تصغیر (Underestimation) ہے۔ پروگرام ایک محدود نقشہ کار کا نام ہے اور انسانی زندگی اس سے زیادہ وسیع ہے کہ وہ کسی محدود نقشۂ کار کے دائرہ میں سما سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا پروگرام خود افراد کو پروگرام ساز بنانا ہے نہ کہ افراد کے ہاتھوں میں کوئی لگام بندھا پروگرام دینا۔ اسلامی دعوت یہی کام کرتی ہے۔ حقیقی اسلامی دعوت افراد کے ذہن کو اس طرح جگا دیتی ہے کہ وہ خود پروگرام ساز بن جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں صرف توحید کی دعوت پیش کی تھی۔ آپ نے اس قسم کی کوئی چیز لوگوں کو نہیں دی جس کو موجودہ زمانہ میں ”پروگرام“ کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues