Al-Risala · March 1982 · page 16

شریعتوں میں فرق کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۱۶

ہر وہ شخص جو آپ کی دعوت سے متاثر ہوتا اس کو اپنے لئے مکمل پروگرام مل جاتا تھا۔ وہ آپ سے توحید کا شعور لینے کے بعد خود ہی سارا کام کرنے لگتا تھا۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ مکہ چھوڑ کر حبش میں گئے ان کو آپ نے معروف معنوں میں کوئی پر وگرام نہیں بتایا تھا۔ مگر انھوں نے حبش میں اسلام کی اتنی کامیاب نمائندگی کی کہ اسلام بین اقوامی دعوت کے مرحلہ میں داخل ہو گیا۔ آپ کی ہجرت سے پہلے جو مسلمان مدینہ گئے ان کو آپ نے قرآن کی سورتوں کے سوا اور کچھ نہیں دیا تھا۔ مگر انھوں نے مدینہ میں اسلامی دعوت کی مہم اس طرح چلائی کہ صرف چند سالوں میں مدینہ اس قابل ہو گیا کہ وہ دار الہجرت (اسلام کا مرکز) بن سکے۔ تقلیدی مذہب سے ہٹا کر شعوری مذہب پر لانے کی مہم سب سے بڑی انقلابی مہم ہے۔ وہ ایسے افراد وجود میں لاتی ہے جو اپنی ذات میں مکمل پر وگرام ہوتے ہیں۔ ایسی مہم کی زد انسان کے پورے وجود پر پڑتی ہے۔ وہ انسانی فطرت کو اس طرح جگاتی ہے کہ اس کے اندر ربانی حکمت کا چشمہ ابل پڑے ۔ اب ایسے انسان وجود میں آتے ہیں جو خدا کے پاؤں سے چلیں، جو خدا کے ہاتھ سے پکڑیں، جو خدا کی آنکھ سے دیکھیں اور خدا کے کان سے سنیں ۔ وہ حدیث کے الفاظ میں ، وہ بے پناہ انسان بن جائیں جس کی ہوش مندی ہر دوسری چیز سے بلند تر ثابت ہوتی ہے (اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور الله) ایسا آدمی خود ہر چیز کا بدل بن جاتا ہے۔ اس کے پاس ہر سوال کا صحیح ترین جواب ہوتا ہے۔ وہ ہر موقع پر اپنے لئے کامیاب ترین راہ عمل تلاش کر لیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں یہی حکمت ربانی جگادی تھی، اس کے بعد انھیں کسی اور چیز کی ضرورت نہ رہی۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا نے انسان کی فطرت میں وہ سب کچھ بھر دیا ہے جس کی اسے اپنی زندگی میں ضرورت ہے۔ عام حالات میں یہ فطرت ڈھکی ہوئی رہتی ہے۔ اسی انسانی فطرت سے جمود اور تعصب اور بے شعوری کے پر دوں کو ہٹانا اسلامی دعوت کا اصل کام ہے۔ ان پر دوں کے ہٹتے ہی انسانی فطرت اس آفاقی روشنی میں آ جاتی ہے جس سے تمام زمین و آسمان جگمگارہے ہیں ۔ اس کے بعد ہر چیز اس کو اپنے واقعی روپ میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ اور جو آدمی چیزوں کو ان کے واقعی روپ میں دیکھ لے اس کے لئے پروگرام کا مسئلہ اتناہی آسان ہو جاتا ہے جتنا آنکھ والے ایک شخص کے لئے سیڑھی کے زینوں پر قدم رکھتے ہوئے کسی عمارت کے اوپر چڑھنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page