شریعتوں میں فرق کی حکمت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۱۷
تم جب ان کی طرف پلٹو گے تو وہ تمہارے سامنے عذرات پیش کریں گے ۔ کہہ دو کہ بہانے نہ بناؤ ۔ ہم ہرگز تمہاری بات نہ مانیں گے ۔ بے شک اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئے ہیں ۔ اب اللہ اور رسول تمہارے عمل کو دیکھیں گے ۔ پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے کا جاننے والا ہے ، وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے ۔ یہ لوگ تمہاری واپسی پر تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو ۔ پس تم ان سے درگزر کرو بے شک وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ میں اس کے جو وہ کرتے رہے ۔ وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ ۔ اگر تم ان راضی بھی ہو جاؤ تو اللہ نافرمان لوگوں سے راضی ہونے والا نہیں ۹۴ - ۹۶ " تمھارے حالات ہم کو اللہ نے بتا دئے ہیں " کا فقرہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہاں جن منافقین کا ذکر ہے اس سے مراد زمانہ نزول قرآن کے منافقین ہیں ۔ کیونکہ براہ راست وحی بخداوندی کے بذریعہ آگاہ ہونے کا معاملہ صرف زمانہ رسالت میں ہوا یا ہو سکتا تھا۔ بعد کے زمانہ میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ طبقات ابن سعد کی روایت کے مطابق یہ کل بیاسی افراد تھے جن کے نفاق کے بارے میں اللہ نے ذریعہ وحی مطلع فرمایا تھا۔
تاہم اس علم کے با وجود صحابہ کرام کو ان کے ساتھ جس سلوک کی اجازت دی گئی ، وہ تغافل اور اعراض تھا نہ کہ ان کو ہلاک کرنا۔ ان کو سزا یا عذاب دینے کا معاملہ پھر بھی خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اگرچہ اتنی سختی کی گئی کہ انہوں نے عذرات پیش کئے تو ان کے عذرات قبول نہیں کئے گئے ۔ حتیٰ کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے منافقانہ روش اختیار کرنے کے بعد زکوٰۃ پیش کی تو ان کی زکوٰۃ لینے سے انکار کر دیا گیا۔ تاہم ان میں سے کسی کو بھی آپ نے قتل نہیں کرایا۔ عبداللہ بن ابی کے لڑکے عبداللہ نے اپنے باپ کی منافقانہ حرکت پر سخت کارروائی کرنی چاہی تو آپ نے روک دیا اور فرمایا : انہیں چھوڑ دو، خدا جب تک وہ ہمارے درمیان ہیں ہم ان کے ساتھ اچھا ہی سلوک کریں گے (دعہ فنعم ی نحسنت صحبته مادام بین اظهرنا، طبقات ابن سعد)
بعد کے زمانہ کے منافقین کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔ تاہم دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ دور اول کے منافقین سے ان کی حالت قلبی کی بنیاد پر معاملہ کیا گیا ، مگر بعد کے منافقین سے ان کی حالت ظاہری کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے گا۔ ان سے اعراض و تغافل کا سلوک صرف اس وقت جائز ہوگا جب کہ ان کے عمل سے ان کی منافقت کا خارجی ثبوت مل رہا ہو ۔ ان کی نیت یا ان کی قلبی حالت کی بنا پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ بعد کے لوگ عذر پیش کریں تو ان کا عذر بھی قبول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ان کے صدقات وغیرہ بھی۔ ان کے انجام کو اللہ کے حوالے کرتے ہوئے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو ظاہری قانون کے مطابق کسی کے ساتھ کیا جانا چاہئے۔ جنت کسی کو ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتی ہے نہ کہ مسلمانوں کی جماعت یا گروہ میں شامل ہونے کی بنیاد پر۔ منافقین سب کے سب مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے وہ ان کے ساتھ نماز روزہ کرتے تھے مگر اس کے با وجود ان کے جہنمی ہونے کا اعلان کیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues