Al-Risala · March 1982 · page 26

شریعتوں میں فرق کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۲۶

اللہ نے نبی پر اور مہاجرین و انصار پر توجہ فرمائی جنہوں نے تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چکے تھے۔ پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی۔ بے شک اللہ ان پر مہربان ہے رحم کرنے والا ہے۔ اور ان تینوں پر بھی اس نے توجہ فرمائی جن کا معاملہ اٹھارکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور وہ خود اپنی جانوں سے تنگ آگئے اور انھوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے بچنے کے لئے خود اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ پھر اللہ ان کی طرف پلٹا تا کہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ۱۸ - ۱۱۷ غزوۂ تبوک کے موقع پر ایک گروہ وہ نکلا جس نے اپنا بہترین اثاثہ اسلام کے حوالے کر دیا۔ ان کی نفس کٹنے کے لئے تیار تھی مگر وہ اس کو چھوڑ کر ایک ایسے سفر پر روانہ ہو گئے جس میں سخت گرمی کے تین سومیل طے کر کے وقت کی سب سے بڑی طاقت و سلطنت کا مقابلہ کرنا تھا۔ سامان کی کمی کا یہ حال تھا کہ ایک ایک اونٹ پر کئی کئی آدمیوں کی باری لگی ہوئی تھی۔ کھانے کے لئے بعض اوقات صرف ایک کھجور ایک آدمی کے حصہ میں آتی تھی۔ تاہم یہ انتہائی سخت مرحلہ صرف ارادوں کے امتحان کے لئے سامنے لایا گیا تھا۔ جب ارادہ کرنے والوں نے ارادے کا ثبوت دے دیا تو خدا نے دشمن کے اوپر رعب طاری کر دیا۔ وہ مقابلہ کے میدان سے ہٹ گئے اور مسلمان خون بہائے بغیر کامیاب و کامراں ہو کر واپس آگئے۔

دوسرا طبقہ معترفین (التوبہ (۱۰۲) کا تھا۔ یہ لوگ اپنے دنیوی مشاغل کی وجہ سے سفر پر روانہ نہ ہو سکے ۔ تاہم فوراً ہی بعد ان کو محسوس ہو گیا کہ انھوں نے غلطی کی ہے۔ ان کے اندر اعتراف اور شرمندگی کی آگ بھڑک اٹھی۔ ان کے آنسوؤں کی کثرت نے ان کے عمل کی کمی کی تلافی کر دی۔ خدا نے ان کو بھی اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے دی۔ کیونکہ انھوں نے عاجزانہ طور پر اپنی غلطی کو مان لیا تھا ۔

تیسرا گروہ تخلفین (۱۱۸) کا تھا۔ یہ تین نوجوان کعب بن مالک ، مرارۃ بن ربیع، ہلال بن امیہ تھے۔ وہ اگرچہ سفر پر نہ نکلنے کو اپنی کوتاہی سمجھتے تھے مگر ان کے اندر توبہ و انابت کا اتنا شدید احساس پہلے مرحلہ میں نہیں ابھرا تھا جو مطلوبہ معیار کے مطابق ہو۔ چنانچہ ان کے ساتھ معاشرتی بائیکاٹ کا معاملہ کیا گیا۔ یہ لوگ اس مقاطعہ کے باوجود مطمئن رہ سکتے تھے۔ وہ اپنے گھر اور اپنے باغوں میں مشغول ہو جاتے۔ وہ برہمی اور نافرداری کے راستوں پر چلنا شروع کر دیتے۔ وہ ناراض عناصر کے ساتھ مل کر اپنی علیحدہ جمعیت بنا لیتے ۔ وہ عام مسلمانوں سے الگ اپنا ایک جزیرہ بنا کر اس کے اندر اپنی خوشیوں کی دنیا بسا سکتے تھے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ خدا اور رسول سے دوری کے احساس نے ان کو اس قدر پریشان کر دیا کہ نہ باہر ان کے لیے سکون کی کوئی جگہ نظر آئی اور نہ اپنے دل کے اندر ان کے لئے سکون کا کوئی گوشہ باقی رہا۔ بالفاظ دیگر ان کی پریشانی اختیاریانہ تھی نہ مجبوار نہ ۔ ان کی اس روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا دل پگھل اٹھا۔ ۵۰ دن میں وہ تو بہ و انابت کے مطلوبہ معیار پر پہنچ گئے۔ اس کے بعد انھیں بھی معاف کر دیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page