Al-Risala · March 1982 · page 27

شریعتوں میں فرق کی حکمت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۲۷

تذکیر القرآن التوبه ۹ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ مدینہ والوں اور اطراف کے بد ویوں کے لئے زیبا نہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہیں اور نہ یہ کہ اپنی جان کو اس کی جان سے عزیز رکھیں۔ یہ اس لئے کہ جو پیاس اور تھکان اور بھوک بھی ان کو خدا کی راہ میں لاحق ہوتی ہے اور جو قدم بھی وہ کافروں کو رنج پہنچانے والا اٹھاتے ہیں اور جو چیز بھی وہ دشمن سے چھینتے ہیں ان کے بدلے میں ان کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے ۔ اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ اور جو چھوٹا یا بڑا خرچ انہوں نے کیا اور جو میدان انہوں نے طے کئے وہ سب ان کے لئے لکھا گیا تاکہ اللہ ان کے عمل کا اچھے سے اچھا بدلہ دے ۲۱ - ۱۱۹ انسانی زندگی اجتماعی زندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی کا اپنے ذوق اور رجحان کے اعتبار سے ایک حلقہ بن جاتا ہے جس میں وہ اپنے روز و شب گزارتا ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہوں اور ایمان کے راستہ پر چلنا چاہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی صحبتوں اور ملاقاتوں کے لئے ان لوگوں کو چنیں جو سچے لوگ ہوں۔ یعنی جن کے دل کا خوف خدا ان کی زندگی کی روش بن گیا ہو۔ جن کے قول اور عمل کے درمیان مطابقت پائی جاتی ہو۔ سچوں کے ساتھ رہ کر آدمی سچا بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ جھوٹوں کا ساتھ پکڑے تو بالآخر وہ خود بھی جھوٹا بن جائے گا۔

آدمی کے سامنے ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ جان کو خطرہ میں ڈال کر اسلام کی خدمت کرنے کا سوال ہو۔ جب بھوک پیاس کا مقابلہ کر کے اسلام کے لئے اپنا حصہ ادا کرنا ہو۔ جب اپنے کو تھکا کر خدا کی راہ میں آگے بڑھنا ہو۔ جب دشمنوں کا خطرہ مول لے کر اپنے کو اسلام کی صف میں شامل کرنا ہو۔ جب اپنی پرسکون زندگی کو برہم کر کے خدا اور رسول کا ساتھ دینا ہو۔ ایسے مواقع پر آدمی احتیاط اور بچاؤ کا طریقہ اختیار کر کے پیچھے بیٹھ جانے کو پسند کرتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ یہی تو وہ مواقع ہیں جب کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کا عملی ثبوت پیش کر سکتا ہے۔ جب کہ وہ جنت کے لئے اپنی اُمیدواری کو خدا کی نظر میں قابل قبول ثابت کر سکتا ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہنے والوں میں ایک ابو خیمہ انصاری بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کے بعد وہ اپنے باغ میں گئے۔ وہاں خوش گوار سایہ تھا، بیوی نے پانی چھڑک کر زمین کو ٹھنڈا کیا، چٹائی کا فرش بچھایا، تازہ کھجور کے خوشے لاکر سامنے رکھے اور ٹھنڈا پانی پینے کے لئے پیش کیا۔ ابو خیثمہ دنیوی آسانیوں ہی کی خاطر تبوک کے سفر پر نہ جاسکے تھے۔ مگر جب جانے والے اور رہنے والے کے درمیان فرق اس انتہائی نوبت کو پہنچ گیا جواب ان کے سامنے تھا تو ابو خیثمہ اس کو برداشت نہ کر سکے۔ انھوں نے کہا " میں یہاں باغ کے سایہ میں ہوں اور خدا کے بندے لو اور گرمی میں کوہ بیابان طے کر رہے ہیں " انھوں نے تلوار سنبھالی اور تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہو کر اسی وقت روانہ ہو گئے۔ یہاں تک کہ گرد و غبار میں اٹے ہوئے قافلہ تبوک سے جا ملے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page