Al-Risala · March 1982 · page 28

۱۔ قرآن و سنت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۲۸

اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تاکہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے ۱۲۲ قرآن کی یہ آیت ایک اعتبار سے زیر بحث صورت حال سے متعلق ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ ایک کلی حکم کو بتا رہی ہے۔ ایک طرف وہ بتاتی ہے کہ مدینہ کے اطراف میں بسنے والے دیہاتیوں کی تعلیم و تربیت کس طرح کی جائے۔ دوسری طرف اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا تعلیمی نظام اور نئی نسلوں کے لئے اس کا تربیتی ڈھانچہ کن اصولی بنیادوں پر قائم ہونا چاہیے۔

تعلیم ایک ایسا کام ہے جس میں آدمی کو دوسری مشغولیتوں سے فارغ ہو کر شامل ہونا پڑتا ہے۔ اب اگر سارے لوگ بیک وقت تعلیمی کام میں لگ جائیں تو زندگی کی دوسری سرگرمیاں، مثلاً حصولِ معاش کی کوششیں، متاثر ہو جائیں گی۔ اسلام کا یہ طریقہ نہیں کہ ایک کام کو بگاڑ کر دوسرا کام انجام دیا جائے، اس لئے حکم دیا گیا کہ باری باری کا اصول مقرر کرو۔ کچھ لوگ تعلیم کے مرکز میں آئیں تو کچھ اور لوگ دوسری سرگرمیوں کو انجام دینے میں لگے رہیں۔ اس طرح دونوں کام بیک وقت انجام پاتے رہیں گے۔

اس آیت میں اسلامی تعلیم کے لئے تفقه فی الدین کا لفظ آیا ہے۔ اس سے مراد معروف فقہی تعلیم نہیں ہے جو شکل دین (مقابلہ روح دین) کے تفصیلی علم کا نام ہے اور جس کے نتیجہ میں دین کا علم مسائل کے علم کے ہم معنی بن گیا ہے۔ یہاں تفقہ فی الدین کا مطلب خدا کے اتارے ہوئے اساسی دین کو جاننا اور اس میں سمجھ حاصل کرنا ہے۔ اس سے مراد وہ علم ہے جو حق شناسی پیدا کرے، جو بنیادی حقیقتوں سے آدمی کو باخبر کرے اور آخرت کی بنیادوں پر زندگی کی تعمیر کرنا سکھائے۔

آیت میں تفقہ فی الدین (تعلیم دین) کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی قوم کے اوپر انذار کا کام کرنے کے قابل ہو سکے۔ انذار کے معنی ہیں ڈرانا۔ قرآن میں یہ لفظ آخرت کے مسئلہ سے ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے لئے آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی تعلیم سے ایسے افراد تیار ہوں جو قوموں کے اوپر خدا کی طرف سے منذر بن کر کھڑے ہو سکیں۔ تاکہ لوگ خدا سے ڈریں اور دنیا کی زندگی میں اس روش سے بچیں جو انہیں آخرت کے ابدی عذاب کی طرف لے جانے والی ہو۔ اسلامی تعلیم دعوت الی اللہ کی تعلیم کا نام ہے نہ کہ معروف معنوں میں صرف مسائلِ فقہ یا جزئیات شرع کی تعلیم کا۔

اس اعتبار سے اسلامی تعلیم کا نصاب دو خاص چیزوں پر مشتمل ہونا چاہئے :

۱۔ قرآن و سنت

۲۔ وہ علوم جو مدعو کی نسبت سے ضروری ہوں۔ مثلاً مخاطب کی زبان، اس کے طرزِ فکر اور اس کی نفسیات، وغیرہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page