Al-Risala · March 1982 · page 34

غلبہ اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۲، صفحہ ۳۴

قوموں کی طرف سے بار بار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ وہ بار بار دوسرے گروہ کی زد میں آجاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے خلاف جذبات ابھرتے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کی طرف سے اپنے کو خطرہ میں پاکران کے خلاف ’’جہاد‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس مسئلہ کو قرآن کی روشنی میں دیکھئے تو اس کا جواب اس سے بالکل مختلف ملے گا جو ایک عام قومی لیڈرایسے حالات میں سوچتا ہے۔ قرآنی جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ خواہ جان و مال کے نقصان کی سطح پر پیدا ہو مگر اس کا حل تمہارے لئے ابدی طور پر دعوتی عمل میں رکھ دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے لئے ہر حال میں جدوجہد کا مقام دعوت الی اللہ ہے نہ کہ وہ دنیوی محاذ جہاں بظاہر ان کا حریف انہیں خطرہ بنا ہوا نظر آتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبر کے واسطہ سے امت کو یہی سبق دیا گیا ہے:

یا ایہا الرسول بلغ ما أنزل اليك من ربك اے رسول جو کچھ تم پر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے وفإن لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک اسے پہنچادو اگر تم نے ایسانہ کیا تو تم نے اللہ کا پیغام نہ پہنچایا من الناس (مائدہ (۶۷) اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ جب بھی اہل ایمان کے لئے دوسروں کی طرف سے عدم تحفظ کا خطرہ ہویا مغلوبیت کا سوال پیدا ہو تو ان کو دعوت الی اللہ کے کام کی طرف دوڑنا چاہئے اسی کام میں لگنے سے خدا کا قانون ان کے حق میں متحرک ہو گا اور وہ غیر معمولی اسباب پیدا ہوں گے جو بالاخر ان کے لئے نجات اور کامیابی کا زینہ بن جائیں۔

دعوت دین کے کام کی ایک خاص فوقیت (Advantage) یہ ہے کہ فطرت کو ابدی طور پر اس کا ہم نوا بنادیا گیا ہے تعصب کی سطح پر کوئی آدمی خواہ کتنا ہی مخالف ہو مگر فطرت کی سطح پر حق کی آواز تمام انسانوں کے لئے اپنے دل کی آواز ہے۔ حق کی پکار ایک ایسی پکار ہے جس کا ایک شئی ہر آدمی کے دل میں موجود ہوتا ہے۔ خدا کا دین اور انسان کی فطرت دونوں ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر اپنے خالق کا تصور لئے ہوئے ہے۔ ہر آدمی کا باطن اس کی اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ہر لمحہ زور کر رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے خالق و مالک کے آگے ڈال دے۔ گویا دین حق ایک ایسا سودا ہے جس کا ہر آدمی پہلے سے خریدار بنا ہوا ہے۔ اس فطری مساعدت کے ساتھ اسلام کو ایک تاریخی مساعدت بھی حاصل ہے۔ وہ یہ کہ دوسرے تمام مذاہب اپنے ماننے والوں کی تحریفات کے نتیجہ میں اپنا اصلی حسن کھو چکے ہیں۔ وہ اتنا بدل چکے ہیں کہ ان میں اور فطرت انسانی میں وہ مطابقت باقی نہیں رہی جو فی الواقع دونوں کے خالق نے دونوں کے درمیان رکھی تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا میں جتنے لوگ کسی دوسرے مذہب کو مانتے ہیں وہ صرف روایت پرستی کی بنا پر اس کو مانتے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1982 All issues

Printed page