Al-Risala · April 1982 · page 10

کل کو جانو

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۱۰

کل کو جانو

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو کسی نہ کسی دائرہ میں اختیار و اقتدار دیا جاتا ہے۔ کسی کے اختیار کا دائرہ بڑا ہے اور کسی کے اختیار کا دائرہ چھوٹا ۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہر آدمی اپنے دائرہ اختیار میں وہی کچھ بن جاتا ہے جو دوسرا شخص اپنے دائرہ اختیار میں بنا ہوا ہے۔ ظاہر کے اعتبار سے لوگوں میں خواہ کتنا ہی فرق ہو، حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔

ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ دوسرے کی کاٹ میں لگا ہوا ہے۔ ہر شخص دوسرے کی نفی پر اپنا اثبات کرنا چاہتا ہے۔ ہر شخص اپنی حیثیت کا غلط اندازہ کر کے یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے دوسرے کو اس کے مقام سے ہٹا دیا تو اس کا خالی مقام اسے مل جائے گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ جو چیز اس کا انتظار کر رہی ہے وہ کسی کا خالی مقام نہیں بلکہ خود اس کی اپنی قبر ہے۔ دوسرے شخص کو قبر میں پہنچانے والا خود اپنی قبر میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ دوسرے کی بربادی کا خواب دیکھنے والا بالآخر اپنے آپ کو خود اپنی بربادی کے کنارے کھڑا ہوا پاتا ہے۔

ہر آدمی جو آج اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے وہ کل اپنے کو ناکام دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ واقعہ ہر روز ہو رہا ہے۔ مگر کوئی شخص آج کے بعد آنے والے کل کو نہیں دیکھتا۔ ہر شخص اپنے آج کو جاننے کا ماہر ہے، کسی کو اپنے آنے والے کل کی خبر نہیں۔ اپنے آج کو جاننے والو، اپنے کل کو جانو۔ کیونکہ آخر کار تم جس چیز سے دوچار ہونے والے ہو وہ تمہارا کل ہے نہ کہ تمہارا آج۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues

Printed page