وقت سے پہلے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۲، صفحہ ۱۱
وقت سے پہلے
یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی اپنا امتحان دے رہا ہے، وہ چاہے تو درست عمل کرکے امتحان میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اور اگر وہ غافل رہے تو ناکامی کے انجام سے دوچار ہونے کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ناکامی کا انجام اپنے آپ ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے، خواہ وہ اس کو کتنا ہی زیادہ ناپسند کرتا ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کی مثال برف بیچنے والے دکان دار کی سی ہے۔ برف ہر آن پگھلتا رہتا ہے۔ اس لئے برف کے دکان دار کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ برف کے پگھلنے سے پہلے اپنی برف کو قیمت میں تبدیل کرے۔ اگر اس نے دیر کی تو آخر کار اس کے پاس کچھ نہ ہوگا جس سے وہ اپنی تجارت کرسکے۔ وہ اپنا اصل بھی کھو چکا ہوگا اور اسی کے ساتھ اپنا نفع بھی۔
یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ انسان عمر گزرنے کے ساتھ تیزی سے ایک سخت انجام کی طرف چلا جا رہا ہے۔ اس انجام کا آنا یقینی ہے۔ اس سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ــــ اس وقت کے آنے سے پہلے اپنی زندگی کا صحیح استعمال تلاش کر لیا جائے۔
برف کا کامیاب تاجر وہ ہے جو برف کے پگھلنے سے پہلے اپنی برف کو بیچ ڈالے۔ اسی طرح کامیاب انسان وہ ہے جو اپنی عمر کے تمام ہونے سے پہلے اپنی عمر کو صحیح کاموں میں استعمال کر لے۔ جو آخرت کا مرحلہ سامنے آنے سے پہلے آخرت کے لئے تیاری کر لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1982 All issues