Al-Risala · July 1982 · page 15

بڑی کامیابی

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۱۵

بڑی کامیابی

انگریزی کے ایک شاعر نے کہا ہے ” جس شخص کو دنیا میں بڑا آدمی بننا ہوتا ہے وہ اس وقت کام میں مصروف رہتا ہے جس وقت عام لوگ سورہے ہوتے ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا آدمی صرف عام وقتوں ہی میں کام نہیں کرتا بلکہ اس وقت بھی کام کرتا ہے جب کہ لوگ اپنے کام سے فارغ ہو کر آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں سے زیادہ کام کرتا ہے اس لئے وہ لوگوں سے زیادہ ترقی حاصل کرتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زیادہ بڑی کامیابی ہمیشہ بڑی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سرسی وی رمن ہندوستان کے مشہور سائنس داں گزرے ہیں جن کو نوبل انعام دیا گیا۔ ان سے کسی نے کہا کہ سائنس داںوں نے جو بڑی بڑی دریافتیں کی ہیں ان میں سائنس دانوں کا اپنا کوئی کارنامہ نہیں۔ کیونکہ اکثر دریافتیں محض اتفاق سے حاصل ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر رمن نے جواب دیا: ہاں، مگر یہ اتفاق صرف ایک سائنس داں کو پیش آتا ہے:

سائنسی دریافتیں (مثلاً بجلی کی دریافت) اکثر اس طرح ہوئی ہیں کہ ایک سائنس داں اپنی تجربہ گاہ میں تحقیق کر رہا ہے۔ تحقیق کرتے کرتے اچانک ایک چیز چمک اٹھی۔ اب سائنس دان نے اس کی کھوج شروع کی۔ یہاں تک کہ وہ ایک نئی دریافت تک پہنچ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی دریافت اگر چہ اچانک ہوتی ہے۔ مگر یہ اچانک دریافت اسی شخص کے حصہ میں آتی ہے جو مسلسل تحقیق و تلاش میں لگا ہوا ہو ۔ کوئی آدمی بے کار بیٹھا ہوا ہو تو اس کے ساتھ ایسا خوش قسمت لمحہ کبھی نہیں آئے گا۔ یہی معاملہ زندگی کی تمام ترقیوں کا ہے۔ بڑی کامیابی اکثر کسی کے حصہ میں اس طرح آتی ہے کہ وہ اپنے کام میں لگا ہوا ہے۔ وہ محنت میں رات دن ایک کئے ہوئے ہے۔ پھر اچانک ایک موقع سامنے آتا ہے اور وہ اس کو استعمال کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ موقع اچانک آتا ہے اور پہلے سے بتائے بغیر آتا ہے۔ کوئی شخص دن کو کام کرے اور رات کو غافل ہو تو رات کو وہ موقع آئے گا اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہے گا۔ اسی طرح کوئی شخص رات کو کام کرے اور دن کو غافل ہو تو دن میں وہ موقع آئے گا اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جائے گا۔ بڑی کامیابی ہمیشہ بڑی جدو جہد سے حاصل ہوتی ہے۔ بڑی کامیابی حاصل کرنے کی دوسری کوئی صورت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page