Al-Risala · July 1982 · page 16

کوئی فرق نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۱۶

کوئی فرق نہیں

ایک آدمی ایک درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا۔ اس کا ایک دوست ادھر سے گزرا۔ اس نے پکار کر کہا ”میرے بھائی! تم کیوں نہیں جاتے کہ کچھ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ“ ”کس لئے“ سوئے ہوئے آدمی نے پوچھا۔

”تاکہ تم ان لکڑیوں کو بیچ کر پیسہ حاصل کرو اور اپنے لئے ایک گدھا خریدو اور پھر لکڑی کو گدھے پر لاد کر گھر گھر بیچو۔ اس طرح ایک وقت آئے گا کہ تم اور نفع کما کر ایک ٹرک خرید لو گے۔ پھر تم اور ترقی کرو گے اور تمھارے یہاں آرہ کی مشین اور بہت سے ٹرک ہو جائیں گے۔ “ ”یہ سب کس لئے“ سونے والے نے دوبارہ پوچھا۔

”تم لکھ پتی ہو جاؤ گے اور آرام سے رہو گے“ ”پھر تمھارا کیا خیال ہے، اب میں کیا کر رہا ہوں“ یہ ایک واقعہ ہے کہ جو آرام ایک آدمی کوٹھی بنا کر حاصل کرنا چاہتا ہے وہی آرام ایک آدمی درخت کے سایہ میں بھی حاصل کر رہا ہے۔ دیکھنے والوں کے نزدیک ضرور دونوں میں فرق ہے۔ مگر خود آرام کرنے والے کے لئے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ بلکہ درخت کے نیچے سونے والا جس سکون میں ہے وہ کوٹھی والے کو شاید میسر نہیں۔

ایک تاجر ایک بار مجھے اپنا نیا مکان دکھانے کے لئے لے گئے۔ کافی بڑا دو منزلہ مکان تھا۔ گھر کے ہر چھوٹے بڑے کے لئے الگ الگ کمرے اور اس کے ساتھ تمام ضروری سہولتیں مہیا تھیں۔ سارے گھر میں قیمتی قالین بچھے ہوئے، تمام دروازے اور کھڑکیاں خوبصورت پردوں سے ڈھکی ہوئی۔ ہر کمرہ میں اعلیٰ درجہ کا فرنیچر۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا پورا گھر جدید سامانوں کی ایک نمائش گاہ ہے۔

مگر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ایک خوبصورت قید خانہ میں بند کر دیا گیا ہوں۔ یہ مکان ایک کھلی جگہ پر تھا مگر وہ قدرت کی ہر چیز سے خالی اور قسم قسم کی مصنوعی چیزوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر طرف بجلی کی روشنی کا اعلیٰ انتظام تھا مگر سورج کی روشنی کو اجازت نہ تھی کہ وہ بند مکان میں داخل ہو۔ ہر کمرہ میں ایئر کنڈیشنر لگا ہوا تھا مگر قدرتی ہوا کا کہیں گزر نہ تھا۔ انسانی آرٹ کے نمونے دیوار پر تھے مگر قدرت کے آرٹ کو دیکھنے کے لئے وہاں کوئی کھڑکی کھلی ہوئی نہ تھی۔ کمرہ میں میوزک کا انتظام تھا مگر باہر کے درخت پر چہچہانے والی چڑیوں کی آواز سننے کے تمام راستے بند تھے۔ جدید تمدن نے انسان کو قدرت سے کتنا دور کر دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues

Printed page