قرآن فہمی کے شرائط
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۲، صفحہ ۴۳
اپنی بات پڑھے گا۔ اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت کی مثال لیجئے:
ومن الناس من يتخذ من دون الله اندادا کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا مقابل يحبونهم كحب الله والذين آمنوا اشد حبا بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ ۱۶۵ بقرہ ﷺ کے ساتھ ہونا چاہئے۔ حالاں کہ ایمان رکھنے والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔
ایک شخص جو سیاسی ذوق رکھتا ہو اور سیاسی ایکٹر پچائڑ کو کام سمجھتا ہو وہ جب اس آیت کو پڑھے گا تو اس کا ذہن پوری آیت میں بس انداد (مد مقابل) پر رک جائے گا۔ وہ قرآن سے " مد مقابل " کا لفظ لے لے گا اور بقیہ مفہوم کو اپنے ذہن سے جوڑ کر کہے گا کہ اس سے مراد سیاسی مد مقابل ٹھہرانا ہے، اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آدمی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کو خدا کا سیاسی مد مقابل بنائے۔ اس تشریح کے مطابق یہ آیت اس کے لئے اس بات کی اجازت نامہ بن جائے گی کہ جس کو وہ خدا کا " سیاسی مد مقابل " بنا ہوا دیکھے اس سے ٹکراؤ شروع کردے۔ اس کے برعکس جو آدمی سادہ ذہن کے ساتھ اس کو پڑھے گا وہ " انداد " کے لفظ پر نہیں رکے گا بلکہ پوری آیت کی روشنی میں اس کا مفہوم متعین کرے گا۔ ایسے شخص کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہاں مد مقابل ٹھہرانے کی جس صورت کا ذکر ہے وہ باعتبار محبت ہے نہ کہ باعتبار سیاست یعنی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ آدمی کو سب سے زیادہ محبت صرف خدا سے کرنا چاہئے۔ " حب شدید " کے معاملہ میں کسی دوسرے کو خدا کا ہمسر نہیں بنانا چاہئے۔
قرآن کا ایک عمومی مفہوم ہے اور اس کو سمجھنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خالی الذہن ہو کر قرآن کو پڑھے۔ مگر جو شخص قرآن کے گہرے معانی تک پہنچنا چاہے اس کو ایک اور شرط پوری کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ اس راہ کا مسافر بنے جس کا مسافر اس کو قرآن بنانا چاہتا ہے۔ قرآن آدمی کی عملی زندگی کی رہنما کتاب ہے اور کسی عملی کتاب کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی عملاً ان تجربات سے گزرے جن کی طرف اس کتاب میں رہنمائی کی گئی ہے۔ یہ عمل کوئی سیاسی یا سماجی عمل نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر ایک نفسیاتی عمل ہے۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنے نفس کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے نہ کہ حقیقۃ کسی خارج کے مقابلہ میں۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی ظاہری دنیا کی سطح پر نہ جئے بلکہ غیب کی دنیا کی سطح پر جئے۔ اس سلسلے میں جن مراحل کی نشان دہی قرآن میں کی گئی ہے ان کو وہ شخص کیسے سمجھ سکتا ہے جو ان مراحل سے آشنا نہ ہوا ہو۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی صرف اللہ سے ڈرے اور صرف اللہ سے محبت کرے۔ اب جس کا دل اللہ کی محبت میں نہ تڑپا ہو، جس کے بدن کے رونگٹے اللہ کے خوف سے نہ کھڑے ہوئے ہوں وہ کیسے جان سکتا ہے کہ اللہ سے ڈرنا کیا ہے اور اللہ سے محبت کرنا کیا۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی خدائی مشن میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرے کہ وہ اس کو اپنا ذاتی مسئلہ بنا لے ۔ اب جس شخص نے خدا کے کام کو اپنا ذاتی کام نہ بنایا ہو وہ کیوں کر جانے گا کہ خدا کے ساتھ اپنے کو شامل کرنے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن یہ چاہتا ہے کہ آدمی انسانوں کے چھیڑے ہوئے مسائل میں گم نہ ہو بلکہ خدا کی طرف سے برسنے والے فیضان میں اپنے کو گم کرے ۔ اب جس شخص پر ایسے صبح و شام ہی نہ گزرے ہوں جب کہ خدا کے فیضان
‹ Previous page Next page › Contents of July 1982 All issues