مدعو نہ کہ حریف
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۸
مدعو نہ کہ حریف
منٹگمری واٹ کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے اسلام کیا ہے (What is Islam) ڈھائی سو صفحات کی اس کتاب میں انگریز مصنف نے اسلام کا نظریاتی اور تاریخی جائزہ لیا ہے۔ آخر میں وہ کتاب کو ختم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ کتاب مغربی لوگوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ اس زندہ اور طاقت ور قوم کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکیں جو کہ ان کی شریک بھی ہے اور ان کی حریف بھی :
This book will enable occidentals to understand better this living and powerful community which is both their partner and their rival اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان کی تصویر آج دوسری قوموں کی نظر میں کیا ہے۔ یہ تصویر محض قومی ہے نہ کہ نظریاتی۔ دوسری قومیں ہم کو بس اس نظر سے دیکھتی ہیں کہ مسلمان دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں اور اس اعتبار سے وہ زمین کے دوسرے باسیوں کے لئے قومی شریک اور مادی حریف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہر قوم کو دوسرے لوگ اسی خاص حیثیت سے جانتے ہیں جس حیثیت سے اس نے اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں متعارف کیا ہو۔ ہر قوم اپنی تصویر آپ بناتی ہے، جاپان کو لوگ ایک تکنیکی معاشرہ سمجھتے ہیں۔ چین کو ایک جبری معاشرہ اور برطانیہ کو ایک جمہوری معاشرہ۔ ان قوموں کے بارے میں لوگوں کی یہ رائیں خود ان قوموں کے طرز عمل سے بنی ہیں نہ کہ دوسروں کی اپنی خیال آرائی سے۔ یہی معاملہ مسلمانوں کا بھی ہے۔ مغرب کے لوگ اگر ہم کو محض ایک جغرافی شریک یا مادی حریف کی حیثیت سے دیکھتے ہیں تو اس کی ذمہ داری خود ہمارے اوپر ہے نہ کہ دوسروں کے اوپر۔ ہم نے اسی روپ میں ان کی نظر میں اپنا تعارف کرایا ہے پھر وہ اس کے علاوہ کسی اور روپ میں ہم کو کس طرح دیکھ سکتے ہیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کی یہ تصویر اس کے لئے ازالہ حیثیت عرفی کے ہم معنی ہے۔ مسلمان دنیا میں خدا کے دین کے نمائندہ ہیں۔ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ اس رشتہ کو اگر قومیت اور رقابت کا رشتہ بنا دیا جائے تو یہ دوسری قوموں کے لئے سب سے بڑا المیہ ہوگا اور مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا جرم۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues