پاره ۱۱
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۲۳
تذکیر القرآن ۲ یونس ۱۰ مقدس ہیں۔ خدا ان کی سنتا ہے اور ان کی سفارش پر دنیوی رزق یا اخروی نجات کے فیصلے کرتا ہے۔ مگر اس قسم کا عقیدہ باطل ہے۔ وہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔
خدا اس قسم کے ہر شرک سے پاک ہے۔ خدا اپنی صفات کا جو تعارف اپنی عظیم کائنات میں کرا رہا ہے اس کے لحاظ سے اس قسم کے تمام عقائد بالکل بے جوڑ ہیں۔ ایسے کسی عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا وہ نہیں ہے جو بظاہر اپنی تخلیقی صفات کے آئینہ میں نظر آ رہا ہے یا پھر خدا کی صفتوں میں تضاد ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی چیز ممکن نہیں۔
خدا نے انسانیت کا آغاز دین فطرت سے کیا تھا۔ اس وقت تمام انسانوں کا ایک ہی دین تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے فرق کر کے دین کے مختلف روپ بنا لئے۔ اس کی وجہ اس آزادی کا غلط استعمال ہے جو لوگوں کو امتحان کی غرض سے دی گئی ہے۔ اگر خدا ظاہر ہو جائے تو اس کی طاقتوں کو دیکھ کر لوگوں کی سرکشی ختم ہو جائے اور اچانک اختلاف کی جگہ اتحاد پیدا ہو جائے ۔ کیونکہ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کر دیتا ہے۔ مگر خدا قیامت سے پہلے اس صورت حال میں مداخلت نہیں کرے گا۔ موجودہ دنیا کو خدا نے امتحان کے لئے بنایا ہے اور امتحان کی فضا باقی رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ حقیقت چھپی رہے اور لوگوں کو موقع ہو کہ وہ اپنی عقل کو صحیح رخ پر بھی استعمال کر سکیں اور غلط رخ پر بھی۔
وَيَقُولُونَ لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّهِ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ الْمُنْتَظِرِيْنَ﴿۲۰﴾وَاِذَآ وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُمْ مَكْرٌ فِي آيَاتِنَا ۚ قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ ﴾ اور وہ کہتے ہیں کہ نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی، کہو کہ غیب کی خبر تو اللہ ہی کو ہے۔ تم لوگ انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ۔ اور جب کوئی تکلیف پڑنے کے بعد ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہماری نشانیوں کے معاملہ میں حیلے بنانے لگتے ہیں۔ کہو کہ خدا اپنے حیلوں میں ان سے بھی زیادہ تیز ہے۔ یقیناً ہمارے فرشتے تمہاری حیلہ بازیوں کو لکھ رہے ہیں ۲۱-۲۰ مکہ کے لوگ جب مسلسل انکار کی روش پر قائم رہے تو خدا نے ان پر قحط بھیجا جو سات سال مسلسل رہا اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بعد ختم ہوا۔ یہ ایک نشانی تھی جس سے انہیں یہ سبق لینا چاہیے تھا کہ رسول کا انکار کرنے کے بعد وہ خدائی پکڑ کی زد میں آجائیں گے ۔ مگر ان کا حال یہ ہوا کہ جب تک قحط رہا الحاح و زاری کرتے رہے اور جب قحط رخصت ہوا تو کہنے لگے کہ یہ تو زمانہ کی گردشیں ہیں جو ہر ایک کے ساتھ پیش آتی ہیں۔ اس کا پاره ۱۱
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues