Al-Risala · August 1982 · page 24

پاره ۱۱

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۲۴

تذکیر القرآن ۲ یونس ۱۰ رسول کو ماننے یا نہ ماننے سے کوئی تعلق نہیں۔

پیغمبر سے لوگ نشانی مانگتے ہیں۔ مگر اصل سوال نشانی کے ظہور کا نہیں بلکہ اس سے سبق لینے کا ہے ۔ کیونکہ نشانی صرف دیکھنے کے لئے ہوتی ہے وہ مجبور کرنے کے لئے نہیں ہوتی۔ نشانی ظاہر ہونے کے بعد بھی یہ آدمی کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اس کو مانے یا کوئی جھوٹی توجیہہ نکال کر اسے رد کردے ۔ تاہم جب خدا کی آخری نشانی ظاہر ہوتی ہے تو اس کے مقابلہ میں انسان کو کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ یہ آخری نشانی اتمام حجت کے بعد خدا کی عدالت بن کر آتی ہے اور وہ مختلف پیغمبروں کے لئے مختلف صورتوں میں آتی ہے۔ پیغمبر آخر الزماں کے لئے مختلف مصلحتوں کی بنا پر یہ نشانی اس صورت میں ظاہر ہوئی کہ منکرین کو مغلوب کرکے مومنین کو ان کے اوپر غالب کر دیا گیا۔ شاہ عبد القادر صاحب اس سلسلہ میں موضح القرآن میں لکھتے ہیں" یعنی اگر کہیں کہ ہم کیسے جانیں کہ تمہاری بات سچ ہے۔ فرمایا کہ آگے حق تعالیٰ اس دین کو روشن کرے گا اور مخالف ذلیل اور برباد ہو جائیں گے۔ سو ویسا ہی ہوا۔ سچ کی نشانی ایک بار کافی ہے۔ اور ہر بار مخالف ذلیل ہوں تو فیصلہ ہو جائے۔ حالانکہ فیصلہ کا دن دنیا میں نہیں ہے۔ “ آدمی جب سرکشی کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا کچھ بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا تو وہ اور بھی زیادہ ڈھیٹ ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے باہر ہے۔ حالانکہ یہ عین خدا کی تدبیر ہوتی ہے۔ خدا سرکش آدمی کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ بے فکر ہو کر خوب سرکشی کرے ۔ اور اس سرکشی کے دوران خدا کے کارندے پردہ میں رہ کر خاموشی کے ساتھ اس کے تمام اقوال وافعال کو لکھتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے تو اچانک موت کا فرشتہ ظاہر ہو کر اس کو پکڑ لیتا ہے تا کہ اس کو اس کے اعمال کا حساب دینے کے لئے خدا کے سامنے حاضر کر دے ۔

هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِـرِيْنَ ﴿۲۲﴾فَلَمَّآ * فَلَمَّا أَنْجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ )

وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ چنانچہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور کشتیاں لوگوں کو لے کر موافق پارہ ۱۱

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page