Al-Risala · August 1982 · page 25

یونس ۱۰

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۲۵

یونس ۱۰

ہوا سے چل رہی ہوتی ہیں اور لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ یکایک تند ہوا آتی ہے اور ان پر ہر جانب سے موجیں اٹھنے لگتی ہیں اور وہ گمان کر لیتے ہیں کہ ہم گھر گئے۔ اس وقت وہ اپنے دین کو اللہ ہی کے خالص کرکے اس کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو یقیناً ہم شکر گزار بندے بنیں گے۔ پھر جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو فوراً ہی زمین میں ناحق کی سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو تمہاری سرکشی تمہارے اپنے ہی خلاف ہے، دنیا کی زندگی کا نفع اٹھالو، پھر تم کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے، پھر ہم بتادیں گے جو کچھ تم کر رہے تھے انسان ایک بے حساس وجود ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان پر جب تکلیف کا کوئی لمحہ آتا ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ فکر کے لمحات میں آدمی اس حقیقت کا اعتراف کر لیتا ہے جس کا اعتراف کرنے کے لیے وہ فکری کے لمحات میں تیار نہ ہوتا تھا۔

اس کی ایک مثال سمندر کا سفر ہے۔ سمندر میں سکون ہو اور کشتی منزل کی طرف رواں ہو تو اس کے مسافروں کے لئے یہ بڑا خوش گوار لمحہ ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے اندر ایک جھوٹا اعتماد پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا معاملہ درست ہے، اب اس کو کوئی بگاڑنے والا نہیں۔

اس کے بعد سمندری ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پہاڑ جیسی موجیں مسافروں کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں۔ ان کے درمیان بڑے سے بڑا جہاز بھی معمولی تنکے کی طرح ہچکولے کھانے لگتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ہلاکت کے سوا اور دوسرا کوئی انجام نہیں۔ اس وقت خدا کے منکر خدا کا اقرار کر لیتے ہیں۔ دیوتاؤں کو پوجنے والے خدائے واحد کو پکارنا شروع کرتے ہیں۔ اپنی قوت اور اپنی تدبیر پر بھروسہ کرنے والے ہر دوسری چیز کو چھوڑ کر صرف خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک تجرباتی ثبوت ہے کہ توحید ایک فطری عقیدہ ہے۔ توحید کے سوا دوسرے تمام عقیدے بالکل بے بنیاد ہیں۔

یہ تجربہ بتاتا ہے کہ خدا کو نہ ماننے کے لئے آدمی خواہ کتنا ہی فلسفہ پیش کرے، حقیقتاً اس قسم کی تمام باتیں بے فکری کی نظریہ سازی ہیں۔ انسان اگر جانے کہ دنیا کے مواقع محض وقتی طور پر اس کو امتحان کے لئے دئے گئے ہیں تو وہ فوراً سنجیدہ ہو جائے۔ اس کے ذہن سے تمام مصنوعی دیواریں گر جائیں اور ایک خدا کو ماننے کے سوا اس کے لئے کوئی چارہ نہ رہے۔

وہ وقت آنے والا ہے جب انسان خدا کے جلال کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور تمام خدائی باتوں کا اقرار کرنے پر مجبور ہو جائے۔ مگر عقل مند وہ ہے جو موجودہ زندگی کے تجربات میں آنے والی زندگی کی حقیقتوں کو دیکھ لے اور آج ہی اس بات کو مان لے جس کو وہ کل ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر کل کا ماننا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔ پارہ ۱۱

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page