یونس ۱۰
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۲۶
إِنَّمَا مَثَلُ الحَيُوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلاً أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ ۚ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴿۲۴﴾ دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے پانی کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا تو زمین کا سبزہ خوب نکلا جس کو آدمی کھاتے ہیں اور جس کو جانور کھاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جب زمین پوری رونق پر آگئی اور سنور اٹھی اور زمین والوں نے گمان کر لیا کہ اب یہ ہمارے قابو میں ہے تو اچانک اس پر ہمارا حکم رات کو یا دن کو آگیا ، پھر ہم نے اس کو کاٹ کر ڈھیر کر دیا گویا کل یہاں کچھ تھا ہی نہیں ۔ اس طرح ہم نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں ۲۴ دنیا کی زندگی امتحان کے لئے ہے ۔ اس لئے انسان کو یہاں مکمل آزادی اور ہر قسم کے کھلے موقع دئے گئے ہیں ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اور جس قسم کا مستقبل چاہے اپنے لئے بنائے۔ مگر انہیں حالات کے درمیان ایسے واقعات بھی رکھ دئے گئے ہیں جو سوچنے والوں کے لئے نصیحت کا کام کرتے ہیں ، جو اس حقیقت کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ محض وقتی ہے اور بہت جلد اس سے چھن جانے والا ہے ۔
انہیں میں سے ایک زمین کی سرسبزی کا واقعہ ہے ۔ جب بارش ہوتی ہے تو زمین ہر قسم کی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے ۔ آدمی ان کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ معاملہ پوری طرح اس کے قابو میں ہے اور بہت جلد وہ تیار فصل کا مالک بننے والا ہے ۔ عین اس وقت اچانک کوئی آفت آ جاتی ہے ۔ مثلاً گولا آ گیا ، اولے پڑ گئے ، تڑی دل پہنچ گیا اور ایک لمحہ میں ساری فصل کا خاتمہ کر دیا ۔
یہی حال انسانی زندگی کا ہے ۔ آدمی ایک عمدہ جسم لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ دنیا کے اسباب اس کا ساتھ دیتے ہیں اور وہ اپنے لئے ایک کامیاب اور شان دار زندگی بنا لیتا ہے ۔ اب اس کے اندر ایک اعتماد پیدا ہو جاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا معاملہ اس کے اپنے اختیار میں ہے ۔ اس کے بعد کسی دن یا کسی رات میں اچانک اس کی موت آ جاتی ہے ۔ اپنے آپ کو با اختیار سمجھنے والا یکایک اپنے کو اس حال میں پاتا ہے کہ مجبوری اور بے اختیاری کے سوا اس کے پاس اور کوئی سرمایہ نہیں ۔ آدمی اگر اس حقیقت کو سامنے رکھے تو وہ دنیا میں کبھی سرکش نہ بنے ، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues