Al-Risala · August 1982 · page 27

تذکیر القرآن ۲

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۲۷

تذکیر القرآن ۲

وَاللّٰهُ يَدْعُوٓا إِلَى دَارِ السَّلٰمِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۝ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ ۦ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۝ وَالَّذِينَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ مَالَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ ۚ كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۝ اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور اس پر مزید بھی۔ اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت۔ یہی جنت والے لوگ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جنہوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ اس کے برابر ہے۔ اور ان پر رسوائی چھائی ہوئی ہوگی۔ کوئی ان کو اللہ سے بچانے والا نہ ہوگا۔ گویا کہ ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانک دئے گئے ہیں۔ یہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ۲۷-۲۵ دنیا کے ظاہری حالات سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے۔ وہ وقتی چیز کو مستقل چیز سمجھ لیتا ہے۔ اس کا خیال یہ ہو جاتا ہے کہ خوشیوں اور راحتوں کی زندگی جو وہ چاہتا ہے وہ اس کو اسی موجودہ دنیا میں حاصل ہو سکتی ہے۔ مگر انسانی آرزوؤں کی دنیا دراصل آخرت میں بننے والی ہے اور اس کو وہی شخص پائے گا جو خدا کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے_ دنیا میں آدمی بالفرض سب کچھ حاصل کرلے تب بھی وہ اس پر قادر نہیں کہ اپنی زندگی کو دکھ اور غم سے پاک کرسکے۔ یہاں ہر خوشی کے ساتھ کوئی اندیشہ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی ہر کامیابی بہت جلد کسی دکھ کی نذر ہو جاتی ہے۔ دکھ اور رنج سے خالی زندگی ایک انوکھی زندگی ہے جو صرف جنت کے ماحول میں آدمی کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ اس راز کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بالآخر خدا کی ابدی جنتوں میں پہنچیں گے۔ راحت اور خوشی کی زندگی جو انسان کو بے حد مرغوب ہے وہ خدا کے وفادار بندوں کو کامل طور پر جنت میں ملے گی_ مگر راحت اور خوشی کا ایک اور درجہ ہے جو سردت راحتوں اور خوشیوں سے بہت بلند ہے۔ یہ مالک کائنات کا دیدار ہے جو اہل جنت کو خصوصی طور پر حاصل ہوگا۔ جو خدا راحتوں اور لذتوں کا خالق ہے وہ یقینی طور پر تمام راحتوں اور لذتوں کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہو چکے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا_ اے جنت والو! تمہارے لئے خدا کا ایک وعدہ باقی ہے جس کو اب وہ پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنت والے یہ سن کر کہیں گے کہ وہ کیا ہے۔ کیا ہمارے پلڑے بھاری پارہ ۱۱

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page