یونس ۱۰
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۲۸
یونس ۱۰
نہیں کر دئے گئے۔ کیا ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا گیا۔ کیا خدا نے ہمیں جنت میں داخل کر دیا اور ہم کو آگ سے نہیں بچا لیا۔ اس کے بعد ان کے اوپر سے حجاب اٹھا لیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھنے لگیں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو خدا نے انہیں دی ہے وہ ان کے لیے خدا کو دیکھنے سے زیادہ محبوب نہ ہوگی اور نہ اس سے زیادہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈی کرنے والی ہوگی (تفسیر ابن کثیر آدمی کے لیے اس سے زیادہ سخت حالت اور کوئی نہیں کہ وہ ایک ایسی بے بسی سے دوچار ہو جو ابدی ہو۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی ناکامی میں پڑا ہوا پائے جو دوبارہ کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ آخرت میں جہنم کے باشندے قرار دئے جائیں گے وہ اسی حالت سے دوچار ہوں گے۔ ان کے چہرے شدید مایوسی کی وجہ سے ایسے کالے ہو جائیں گے گویا کہ وہ تہ بہ تہ اندھیروں میں ڈوب گئے ہیں۔ آدمی کو اگر چہ اس کی برائی کا بدلہ اتناہی دیا جائے گا جتنا اس نے برائی کی ہے۔ مگر ابدی محرومی کا احساس اس کے لیے اتنا سخت ہوگا کہ اس کا چہرہ تک اس کی وجہ سے سیاہ پڑ جائے گا۔
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنْتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ وَقَالَ شُرَكَاؤُهُمْ مَا كُنْتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ فَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ هُنَالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ مَا أَسْلَفَتْ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ) اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے، پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ ٹھہرو تم بھی اور تمھارے بنائے ہوئے شریک بھی۔ پھر ہم ان کے درمیان تفریق کر دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ اللہ ہمارے درمیان گواہی کے لئے کافی ہے۔ ہم تمھاری عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔ اس وقت ہر شخص اپنے اس عمل سے دوچار ہوگا جو اس نے کیا تھا اور لوگ اللہ اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو جھوٹ انھوں نے گھڑے تھے وہ سب ان سے جاتے رہیں گے ۲۸ - ۳۰ شرک کا پورا کاروبار جھوٹی امیدوں پر قائم ہوتا ہے، وہ واقعات جو خدا کے کُئے سے ہورہے ہیں ان کو آدمی جھوٹے معبودوں کی طرف منسوب کر دیتا ہے اور اس طرح خود ساختہ تصور کے تحت ان کو اپنی عقیدت و پرستش کا مرکز بنا لیتا ہے، اپنے ان معبودوں پر اس کا اعتماد اتنا بڑھتا ہے کہ وہ سمجھ لیتا ہے کہ آخرت میں بھی وہ ضرور خدا کے مقابلہ میں اس کے مددگار بن جائیں گے۔ اور اس کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے۔
یہ سراسر جھوٹی امیدیں ہیں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ان کا جھوٹ ہونا ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ یہاں امتحان کی پاره ۱۱
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues