Al-Risala · August 1982 · page 29

یونس ۱۰

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۲۹

تذکیر القرآن ۲ یونس ۱۰ وجہ سے ہر چیز پر غیب کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ واقعات کو اپنے فرضی معبودوں کی طرف منسوب کرے اور اس طرح ان کی معبودیت پر مطمئن ہو جائے۔ مگر آخرت میں ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ وہاں معلوم ہو گا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی زور حاصل نہ تھا۔

موجودہ دنیا میں آدمی اس خوش فہمی میں جی رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں یا اپنے معبودوں کی مدد سے آخرت کے مرحلے میں کامیاب ہو جائے گا۔ مگر آخرت میں اچانک اس پر کھلے گا کہ اس کا اعتماد سراسر جھوٹا تھا۔ یہاں کسی کو صرف وہی ملے گا جو اس نے خود کیا تھا۔ فرضی سہارے وہاں اس طرح غائب ہو جائیں گے جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُوْلُونَ ٱللَّهُۚ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُونَ - فَذٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ ۚ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ - كَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ فَسَقُوا أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ کہو کہ کون تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے۔ یا کون ہے جو کان پر اور آنکھوں پر اختیار رکھتا ہے۔ اور کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے۔ اور کون معاملات کا انتظام کر رہا ہے۔ وہ کبھیں گے کہ اللہ کہو کہ پھر کیا تم ڈرتے نہیں۔ پس وہی اللہ تمہارا پروردگار حقیقی ہے توفیق کے بعد بھٹکنے کے سوا اور کیا ہے، تم کدھر پھرے جاتے ہو۔ اسی طرح تیرے رب کی بات سرکشی کرنے والوں کے حق میں پوری ہو چکی ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں گے ۳۳ - ۳۱ انسان کو رزق کی ضرورت ہے۔ یہ رزق انسان کو کیسے ملتا ہے، کائنات کے مجموعی عمل سے۔ ساری کائنات حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ ایک خاص رخ پر عمل کرتی ہے۔ تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان کے لئے وہ رزق فراہم ہو جس کے بغیر اس کا وجود اس سرزمین پر ممکن نہیں۔ خدائی کے مفروضہ شرکاء یا دیوی دیوتا خود مشرکین کے عقیدہ کے مطابق، انسان کے لئے رزق فراہم نہیں کر سکتے، کیونکہ ہر مفروضہ شریک کسی جزر کا معبود ہے، اور جزر کا معبود کہی ایسے واقعہ کو ظہور میں نہیں لاسکتا جو کل اجزاء کی موافقت سے ظہور میں آتا ہو۔ اسی طرح مثلاً انسان کے اندر کان اور آنکھ جیسی حیرت انگیز صلاحیتیں ہیں۔ وہ بھی کسی دیوتا کی دی ہوئی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page