یونس ۱۰
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۳۱
یونس ۱۰
تخلیق کا عمل ایک بار اللہ کے لئے ثابت ہے تو اسی سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ اس کا اعادہ کر سکتا ہے اور کرے گا۔ پھر جب وجود اول اور وجود ثانی دونوں کا اختیار صرف ایک اللہ کو ہے تو دوسرے شریکوں کی طرف توجہ لگانا بالکل عبث ہے۔ ان سے آدمی نہ اپنی پہلی زندگی میں کچھ پانے والا ہے اور نہ دوسری زندگی میں۔ یہی معاملہ رہنمائی کا ہے۔ "اللہ رہنمائی کرتا ہے" یہ چیز پیغمبروں کی ہدایت سے ثابت ہے ۔ پیغمبروں نے جس ہدایت کو خدائی ہدایت کہہ کر انسان کے سامنے پیش کیا وہ مسلم طور پر ایک ہدایت ہے۔ اس کے برعکس شریکوں کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو سرے سے اس قابل نہیں کہ وہ انسان کو حق اور ناحق کے بارے میں کوئی علم دیں (مثلابت) یا وہ اپنی کیوں اور محد ود یتوں کی وجہ سے خود رہنمائی کے محتاج ہیں، کجا کہ وہ دوسروں کو کوئی واقعی رہنمائی فراہم کریں (مثلاً انسانی معبود)۔ جب صورت حال یہ ہے تو انسان کو صرف ایک خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے نہ کہ فرضی شریکوں کی طرف۔
شرک کا کاروبار کسی واقعی علم پر قائم نہیں ہے بلکہ وہ مفروضات اور قیاسات پر قائم ہے۔ کچھ ہستیوں کے بارے میں بے بنیاد طور پر یہ رائے قائم کر لی گئی ہے کہ وہ خدائی صفات کے حامل ہیں۔ حالاں کہ اتنی بڑی رائے کسی حقیقی علم کی بنیاد پر قائم کی جا سکتی ہے نہ کہ محض اٹکل اور قیاس کی بنیاد پر۔ وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنَ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ ٱللَّهِ وَلَكِنَّ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَلَمِينَ ٥ أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنْتُمْ صَدِقِينَ ٥ بَلْ كَذَّبُوا بِمَالَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرُ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةِ الظَّلِمِينَ اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اس کو بنا لے۔ بلکہ یہ تصدیق ہے ان پیشین گوئیوں کی جو اس کے پہلے سے موجود ہیں، اور کتاب کی تفصیل ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خداوند عالم کی طرف سے ہے۔ کیا لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ کہو کہ تم اس کی مانند کوئی سورۃ لے آؤ اور اللہ کے سوا تم جس کو بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔ بلکہ یہ لوگ اس چیز کو جھٹلا رہے ہیں جو ان کے علم کے احاطه میں نہیں آئی۔ اور جس کی حقیقت ابھی ان پر نہیں کھلی۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے ہیں، پس دیکھو کہ ظالموں کا انجام کیا ہوا ۳۹ -
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues