Al-Risala · August 1982 · page 32

یونس ۱۰

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۳۲

یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ قرآن ایک غیر انسانی کلام ہے۔ اگر وہ کسی انسان کا کلام ہوتا تو یقیناً دوسرے انسانوں کے لئے بھی یہ ممکن ہونا چاہئے تھا کہ وہ اپنی کوشش سے ویسا ہی ایک کلام بنالیں۔ قرآن کے کلام الہیٰ ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ وہ ان پیشین گوئیوں کی تصدیق ہے جو اس کے بارے میں پہلے سے آسمانی صحیفوں میں موجود ہیں۔ آسمانی تعلیمات کی حامل قومیں پہلے سے ایک آخری ہدایت نامہ کی منتظر تھیں۔ قرآن اسی انتظار کا جواب بن کر آیا ہے، پھر اس میں شک کرنے کی کیا ضرورت۔ مزید یہ کہ وہ ”کتاب“ کی تفصیل ہے۔ یعنی وہ الہی تعلیمات جو تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ ہیں انہیں کو وہ صحیح اور بے آمیز روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ ایک واضح قرینہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن اسی خدا کی طرف سے آیا ہے جس کی طرف سے پچھلی آسمانی کتابیں آئی تھیں۔

جب کوئی شخص کہتا ہے کہ قرآن ایک انسانی تصنیف ہے تو وہ اپنے دعوے کو ایک ایسے میدان میں لاتا ہے جہاں اس کو جانچنا آسان ہو۔ کیونکہ وہ اپنی یا دوسروں کی انسانی صلاحیتوں کو کام میں لاکر قرآن جیسی ایک کتاب یا اس کے جیسی ایک سورہ تیار کر سکتا ہے۔ اور اس طرح عملی طور پر اس دعوے کو رد کر سکتا ہے کہ قرآن خدائی ذہن سے نکلی ہوئی کتاب ہے۔ مگر قرآنی چیلنج کے باوجود کسی کا ایسا نہ کر سکنا آخری طور پر ثابت کر رہا ہے کہ قرآن کو انسانی کتاب کہنے والوں کا دعویٰ درست نہیں۔

قرآن کی صداقت کے یہ دلائل ایسے نہیں ہیں کہ آدمی ان کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کو جھٹلانے کے نتائج سے وہ بے خوف ہیں۔ ان کو یہ ڈر نہیں کہ قرآن کا انکار کر کے وہ کسی عذاب کی پکڑ میں آ جائیں گے۔ ان کی مخالفانہ روش کی وجہ وہ غیر سنجیدگی ہے جو ان کی بے خوفی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے نہ کہ کسی قسم کا عقلی اور استدلالی اطمینان۔

وَمِنْهُمْ مَّنْ يُؤْمِنُ بِهِ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهِ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِينَ وَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۚ أَنْتُمْ بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءُ مِمَّا تَعْمَلُونَ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُوا لَا يَعْقِلُونَ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْظُرُ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنْتَ تَهْدِي الْعُمْيَ وَلَوْ كَانُوا لَا يُبْصِرُونَ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَكِنَّ النَّاسَ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو قرآن پر ایمان لے آئیں گے اور وہ بھی ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، اور تیرا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔ اور اگر وہ تم کو جھٹلاتے ہیں تو کہہ دو کہ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے۔ تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page