Al-Risala · August 1982 · page 33

پارہ ۱۱

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۳۳

یونِس ۱۰ تذکیر القرآن ۲ اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے جب کہ وہ سمجھ سے کام نہ لے رہے ہوں ۔ اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو تمہاری طرف دیکھتے ہیں تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ وہ دیکھ نہ رہے ہوں۔ اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا مگر لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ۴۴۔

ایمان نہ لانے والے خدا کی نظر میں مفسد ہیں، کیونکہ اپنی فطرت کو بگاڑ کر ہی کسی کے لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔ ایسا آدمی اپنے ضمیر کی آواز کو دباتا ہے، وہ اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا، وہ کھلے کھلے دلائل کو جھوٹے الفاظ بول کر نظر انداز کر دیتا ہے، وہ سن کر نہیں سنتا اور سمجھنے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ حق کے مقابلہ میں اپنے تعصبات اور اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔

بحث ومناظرہ کرنے والے لوگ آخر وقت تک اپنی بحث جاری رکھتے ہیں ۔ ” میرا معاملہ میرے ساتھ ہے اور تمہارا معاملہ تمہارے ساتھ “، اس قسم کا جملہ کہنا ان کو اپنی شکست نظر آتا ہے، مگر داعی فتح و شکست کی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرتا ہے، اس لئے جب وہ دیکھتا ہے کہ مخاطب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے اور مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو وہ یہ کہہ کر الگ ہو جاتا ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے یہاں ہونا ہے۔ خدا کی میزان میں جو شخص جیسا نکلے گا ویسا ہی اس کا انجام ہوگا۔ حق کو نہ ماننے والوں میں ایک طبقہ وہ ہے جو شروع سے اپنا منکر ہونا ظاہر کر دیتا ہے۔ مگر زیادہ ہوشیار قسم کے لوگ یہ کرتے ہیں کہ بظاہر وہ باتوں کو اس طرح سنتے ہیں گویا کہ وہ سچ سمجھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ اس کو سمجھنا نہیں ہے۔ وہ داعی کی صداقت کی نشانیوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ کھلے دل سے اس کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ان کا ذہن پہلے سے یہ طے کئے ہوئے ہوتا ہے کہ اس کو دیکھنا اور ماننا نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی ظاہری سادگی سے داعی اس خوش گمانی میں پڑ جاتا ہے کہ وہ قبولیت حق کے قریب ہیں۔ مگر خدا کی نظر میں وہ ایسے لوگ ہیں جو کان رکھتے ہوئے بہرے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بن جائیں۔ ایسے لوگوں کو کبھی خدا کی طرف سے قبول حق کی توفیق نہیں ملتی۔

خدا نے انسان کو بہترین صلاحیتیں دی ہیں۔ اگر وہ ان صلاحیتوں کو استعمال کرے تو وہ کبھی گمراہ نہ ہو۔ مگر انسان اپنے کو آزاد پا کر غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے ۔ وہ بے جا سرکشی کرنے لگتا ہے ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اس نے خدا کی اسکیم کو نہیں سمجھا ، جو چیز اس کو آزمائش کے طور پر دی گئی تھی اس کو اس نے اپنا حق سمجھ لیا۔

پارہ ۱۱

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page