پارہ ۱۱
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۴۹
سوالیہ خط باسمه سبحانه برادر مکرم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ادھر کچھ عرصہ سے جماعت اسلامی کی مخالفت میں لکھی جانے والی کتابوں کا مطالعہ کر رہا ہوں اور اب تک اس سلسلہ کی تقریباً تمام ہی کتابیں میں مطالعہ میں آچکی ہیں مثلاً مولانا زکریا صاحب کی "فتنہ مودودیت" مولانا منظور نعمانی صاحب کی سرگزشت "مولینا علی میاں کی دین کی تفہیم و تشریح "وغیرہ لیکن ان کتابوں میں مجھے کوئی خاص بات قابلِ ذکر نظر نہیں آئی، البتہ جناب وحید الدین خان صاحب کی تعبیر کی غلطی" میں خاص طور سے دو چیزیں قابل توجہ نظر آئیں : (۱) جماعت اسلامی کے نزدیک نظام حق کے غلبے کے لئے کوشش اور جدوجہد امت مسلمہ کا نصب العین قرار پاتا ہے حالانکہ قرآن مجید میں کوئی نص قطعی ایسی نہیں جس سے اس کا وجوب ثابت ہوتا ہو۔ (۲) اس مقصد کی روشنی میں بیشتر انبیاء کی ناکامی ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر دین کی بنیادی دعوت توحید آخرت کی طرف بلاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے اور نظام حق قائم نہیں کر سکے۔ اصل میں ان کتابوں کے مطالعہ کی ضرورت خاص طور سے اس لئے پیش آئی کہ جماعت اسلامی سے اتفاق و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ایک زمانہ گزر گیا۔ اب کچھ عرصہ سے بار بار یہ خیال آرہا ہے کہ کیوں نہ آگے بڑھ کر رکنیت کا فارم پر کر دیا جائے لیکن پھر سوچا کہ کیوں نہ اس اقدام سے پہلے آپ سے بھی مشورہ کر لیا جائے۔ اس سلسلہ میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ یہ خط تحریر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ آپ کی رہنمائی حاصل کروں۔ امید ہے تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں گے۔ والسلام - شفیق احمد اصلاحی شیش محل ۔ آزاد مارکیٹ ۔ دہلی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues