Al-Risala · August 1982 · page 1

پارہ ۱۱

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۱

اپنی سرگرمیاں منضبط کیجئے ۔ حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کو جو نصیحت کی تھی ، شاید یاد ہو: ان اللہ عملاً باللیل لا یقبله بالنّہار و عملاً بالنّهار لا یقبله بالليل۔ رہیں آپ کی مذکورہ دونوں الجھنیں تو حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر حیرت ناک بات کیا ہوگی کہ ایک طرف اسلام دشمن مفکرین کا اس پر اجماع ہے کہ جب تک یہ کتاب مسلمانوں کے پاس موجود ہے اس وقت تک ان کو زیر نہیں کیا جا سکتا اور کبھی زیرنگیں ہو ہی گئے شامت اعمال کی وجہ سے تو کچھ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ دیو کب جگ جائے اور تمام بیڑیاں چشم زدن میں توڑ کر پھینک دے۔ آج ہلکی سی بیداری نظر آرہی ہے تو ساری دنیا لرزاں و ترساں ہے دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کا دن رات کا مشغلہ یہی ہے قال اللہ وقال الرسول، اسی کی روٹی کھاتے ہیں اور اسی کے بل پر امت پر راج کرتے ہیں ، ان کو کہیں ایک بھی واضح اور محکم آیت نہیں ملتی جس سے غلبہ واقتدار کے لئے کوشش کا وجوب تو درکنار جواز ثابت ہو سکے الی اللہ المشتكى میری آنکھیں نم ہیں اور قلم زبردستی چلا رہا ہوں ضربت عليهم الذّلة والمسكنة کی اس سے زیادہ واضح مثال کیا ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامانہ ذہنیت رکھنے والے مسلمان سے ایک آزاد غیر مسلم کی نگاہ زیادہ دور رس اور حقیقت شناس ہوتی ہے جس کی آمد سے دو ہزار سال پہلے بلکہ اس سے بھی بہت پہلے اس کے غلبہ واقتدار کی خبر گرم تھی اور بار بار دوہرائی جاتی رہی اور تحریفات کے بعد آج بھی موجود ہے ، جش کی آمد کے قریب شدت سے انتظار ہی اس بات کا تھا کہ اس کی آمد پر سخت کشت و خون ہوگا ، اللہ تعالی اپنے دشمنوں سے انتقام لے گا، مشرق سے مغرب تک اس کا اقتدار چھا جائیگا، قوموں کی قومیں اس کے آگے سرنگوں ہوں گی ، جس کی خبر ملنے سے پہلے ہی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page