پارہ ۱۱
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۳۷
ہر قل نے کہا تھا ظھر، ملک هذه الأمة (اس دور کا بادشاہ آگیا) جس کا سفیر پہنچا تو اس نے کہا کہ اگر یہ باتیں صحیح ہیں تو اس سرزمین پر اس کا اقتدار ہوگا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے، جس نے دس سال کی مختصر مدت میں نو عظیم الشان جنگی مہموں کی قیادت کی، اسی سے زیادہ جنگی مہموں پر اپنے ساتھیوں کو روانہ کیا، وفات سے چند روز پہلے بیرون ملک کے لئے لشکر تیار کیا اور اپنے دست مبارک سے جھنڈا باندھا اور جاتے جاتے اس کو روانہ کرنے کی وصیت کر گیا، جاتے جاتے نماز اور غلاموں کے بارے میں وصیت کی یعنی سچے غلام اور اچھے آقا بن کر رہنا۔ پھر اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے اس مہم کو پورے زور و شور سے جاری رکھا، آج اس کے امتیوں کے لئے ان سرگرمیوں کے لئے وجہ جواز ماننا مشکل ہورہا ہے۔ اگر آپ کو فرصت ہو تو انڈکس تیار کیجئے اور نہ ہو تو بنے بنائے انڈکسوں پر نظر ڈالئے ۔ قرآن کے بھی اور حدیث کے بھی۔ کیا جہاد وقتال سے بھی وسیع اور مفصل کوئی باب نظر آتا ہے؟ کیا اس سے افضل کوئی عمل ملتا ہے؟ پھر کیا خون ریزی اور خوں آشامی بذات خود مقصود تھی یا اس کا کوئی مقصد تھا؟ امر بالمعروف ، نہی عن المنکر، کمزوروں کی حمایت عدل و انصاف کے قیام کی تعلیمات کیا غلاموں کے لئے تھیں؟ استخلاف فی الارض ، تمکین فی الارض کے دعوے محض چاہوں اور وردوں کے ذریعہ پورے ہوئے یا ہونے والے تھے ؟ فقد اتينا آل ابراهيم الكتاب والحكم والنبوة واتينهم ملكا عظيما کا وعدہ کیا بغیر اس کا حق ادا کئے پورا ہوا اور کیا بغیر حق ادا کئے باقی رہ سکتا ہے؟ کیا یہود کے لئے غلامی اللہ تعالی کے غضب اور پھٹکار کی علامت تھی اور
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues