Al-Risala · August 1982 · page 3

آغاز بیج سے

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۳

آغاز بیج سے

ایک شخص جس کی داڑھی میں سفیدی آچکی تھی ، رکرڈٹنگ آفس میں داخل ہوا "مجھے سپاہی کی حیثیت سے بھرتی کر لیجئے ۔ " اس نے کہا۔

"مگر تمھاری عمر کیا ہے ؟ " سرجنٹ نے پوچھا۔

باسٹھ سال"

"تم اچھی طرح جانتے ہو کہ باسٹھ سال کی عمر سپاہی بننے کے لئے بہت زیادہ ہے " "سپاہی کے لئے یہ عمر زیادہ ہو سکتی ہے " آدمی نے کہا "مگر کیا آپ کو کسی جنرل کی ضرورت نہیں" ایک انگریزی رسالہ (مئی ۱۹۸۲) میں مذکورہ واقعہ چھپا ہے اور اس کا عنوان طنزیہ طور پر ان لفظوں میں قائم کیا گیا ہے ۔ اوپر سے آغاز :

Starting at the Top

ایک شخص جنرل کے عہدہ سے اپنی فوجی زندگی شروع کرنا چاہے تو وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا ۔ یہی معاملہ عام زندگی کا ہے۔ یہاں کسی کے لئے چھلانگ ممکن نہیں۔ جس طرح درخت کا آغاز نیچے سے ہوتا ہے اسی طرح زندگی کی تعمیر کا آغاز بھی ابتدائی نقطہ سے ہوتا ہے ۔ آخری نقطہ سے آپ اپنی زندگی کا آغاز نہیں کر سکتے ۔

تجارت روپیہ لگانے سے شروع ہوتی ہے نہ کہ نفع کمانے سے۔ ڈاکٹری تعلیم محنت سے شروع ہوتی ہے نہ کہ بازار میں شان دار بورڈ لگانے سے۔ مکان کی تعمیر بنیاد سے شروع ہوتی ہے نہ کہ چھت ڈالنے سے۔ کھانے کا آغاز فصل بونے سے ہوتا ہے نہ کہ دسترخوان لگانے سے ۔ کارخانہ کا آغاز مشین کی فراہمی سے ہوتا ہے نہ کہ تیار مال بیچنے سے وغیرہ اسی طرح اجتماعی معاملات میں آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ افراد کے اندر مقصد کا شعور ابھارا جائے ۔ ان کو محنتی اور دیانت دار بنایا جائے ، ان کے اندر برداشت اور اتحاد کی صلاحیت پیدا کی جائے ۔ قوم کے افراد میں ، قابلِ لحاظ حد تک ، ان صلاحیتوں کو پیدا کرنے سے پہلے اگر عملی اقدام شروع کر دیا جائے تو وہ صرف ناکامی پر ختم ہوگا ۔ اس قسم کی قومی تعمیر کی مثال بالکل ایسی ہوگی جیسے دیوار بنانے سے پہلے چھت کھڑی کرنے کی کوشش۔ ایسی چھت ہمیشہ اٹھانے والے کے سر پر گرتی ہے۔ اسی طرح افراد کی تعمیر سے پہلے قومی اقدام صرف ناکامی اور بربادی پر ختم ہوتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page