Al-Risala · August 1982 · page 4

نئی طاقت جاگ اٹھی

الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۴

نئی طاقت جاگ اٹھی

گیرارڈ ڈاٹی) نے مغربی لاطینیوں کے لئے وہی کام کیا جو حنین ابن اسحق نے مشرقی عربوں کے لئے کیا تھا۔ اس نے عربی زبان سے فلسفہ، ریاضی، طب اور علوم طبیعی کی بے شمار کتابوں کا ترجمہ لاطینی زبان میں کر ڈالا۔

گیرارڈ ۱۱۱۴ء میں کریمونا (اٹلی) میں پیدا ہوا۔ وہ عربی زبان بخوبی جانتا تھا۔ بطلیموس کی المجسطی (عربی) کی تلاش میں وہ طلیطلہ آیا۔ اس نے ۱۱۷۵ء ۱۱۶۱ء میں اس کتاب کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ وہ عربی کی کتابوں کا ترجمہ کرنے والوں میں نمایاں ترین شخص بن گیا۔ ایک مسیحی اور ایک یہودی عالم اس کام میں اس کے مددگار تھے۔ اس نے یونانی اور عربی علوم کے دروازے پہلی بار مغرب کے لئے کھول دئے۔ اس کے بعد دوسرے بہت سے افراد پیدا ہوئے جنہوں نے اس معاملہ میں اس کی تقلید کی۔ ڈاکٹر میکس می رہاف کے الفاظ میں وہ یورپی دنیا میں عربیت کا بانی تھا۔

علم طب میں گیرارڈ نے بقراط و جالینوس کی کتابوں، حنین کے تقریباً اسّی ترجموں، الکندی کی تمام تصانیف، بو علی سینا کی ضخیم ”قانون“ اور ابوالقاسم زہراوی کی کتاب ”جراحت“ کا ترجمہ کر دیا۔ طبیعیات میں اس نے ارسطو کی بہت سی کتابوں کا عربی سے ترجمہ کیا۔ جن میں حجریات کا وہ رسالہ بھی شامل ہے جو ارسطو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس شعبہ علم میں الکندی، الفارابی، اسحاق اور ثابت وغیرہ کی کتابوں کو بھی لاطینی میں منتقل کیا۔

گیرارڈ ۱۱۸۷ء میں بیمار پڑا۔ اس نے گمان کیا کہ اب اس کی موت قریب ہے۔ ”اگر میں مر گیا تو قیمتی عربی کتابوں کا ترجمہ مغربی زبان میں کون کرے گا؟ اس احساس نے اس کو تڑپا دیا۔ اس کے اندر نئی قوت عمل جاگ اٹھی۔ بیماری کے باوجود اس نے ان بقیہ عربی کتابوں کا ترجمہ شروع کر دیا جن کو اس نے اپنے پاس جمع کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے پہلے صرف ایک مہینے کے اندر اس نے تقریباً تمام کتابوں کے ترجمے پورے کر لئے۔

عمل کا تعلق حقیقۃ جذبے سے ہے نہ کہ صحت اور طاقت سے۔ اگر آدمی کے اندر کسی کام کی آگ بھڑک اٹھے تو اس کام کو وہ ہر حال میں کر ڈالتا ہے، خواہ وہ بسترِ مرض پر ہو۔ خواہ اس کے ظاہری حالات کسی طرح اس کی اجازت نہ دیتے ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues

Printed page