سیاسی احکام سی نوعیت
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۴۱
سیاسی احکام سی نوعیت
ایک مسلمان کمیونسٹ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے سب سے بڑے اشتراکی تھے ان کے نزدیک پیغمبر اسلام کا مشن یہ تھا کہ دنیا سے معاشی استحصال کا خاتمہ کریں۔ اور زمین پر معاشی انصاف کا نظام قائم کریں۔ اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کے لئے ان کو قرآن کے بہت سے حوالے مل گئے ــــ زمین اللہ کی ہے (اعراف ۱۲۸) دولت کا اجتماع ہلاکت کا باعث ہے (الہمزہ ۲) ضرورت سے زیاوہ مال رکھنے کا کسی کو حق نہیں (البقرہ ۲۱۹) سرمایہ دارانہ سماج پر خدا اپنا عذاب نازل کرتا ہے (الاسرار ۱۶) دولت صرف سرمایہ دار طبقہ میں نہیں رہنا چاہئے (الحشر) خدا کا مطلوب سماج وہ ہے جس میں ایک طبقہ کے لئے دوسرے طبقہ کو لوٹنے کا موقع نہ ہو (ہود ۴۷) دولت کے زور پر جو لوگ دوسروں کا استحصال کرتے ہیں ان سے جنگ کرو (البقرہ ۲۷۹)
مذکورہ کمیونسٹ اپنے نقطہ نظر کے حق میں اس طرح کے قرآنی دلائل پیش کرتے رہے۔ آخر میں اس نے کہا کہ پیغمبر کا مشن اگر وہی ہے جو آپ نے بیان فرمایا تو قرآن میں ایسی کوئی آیت ہونی چاہئے جس کا مفہوم یہ ہو کہ " اے پیغمبر! ہم نے تم کو اس لئے بھیجا ہے تاکہ تم دنیا سے معاشی لوٹ کو ختم کرو اور زمین پر معاشی انصاف کا نظام قائم کرو۔ " اگر آپ اپنے دعوے میں برحق ہیں تو قرآن سے ایسی کوئی آیت نکال کر دکھائیے۔ موصوف نے مذکورہ بالا قسم کے معاشی حوالے تو بہت دئے مگر دہ ایسی کوئی آیت پیش نہ کر سکے جس کے الفاظ سے براہ راست طور پر یہ نکلتا ہو کہ پیغمبر کا مشن دنیا میں معاشی انقلاب برپا کرنا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن میں بہت کی معاشی آیتیں ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن میں کوئی ایک بھی ایسی آیت نہیں جس کے عبارت النص سے مذکورہ بالا قسم کا معاشی نصب العین نکلتا ہو۔ یہ فرق ثابت کرتا ہے کہ معاشی احکام اگرچہ قرآن میں موجود ہیں مگر معاشی احکام کا نفاذ ہی وہ چیز نہیں جو پیغمبر خدا کا اصل نصب العین ہو۔ معاشی احکام کی اہمیت کسی اور پہلو سے ہے نہ کہ نصب العین کے پہلو سے۔ یہی معاملہ سیاسی احکام کا ہے۔ قرآن میں یقیناً سیاسی نوعیت کے احکام بھی ہیں۔ مگر ان احکام کی بنیاد پر ایک نظام قائم کرنا ہی وہ اصل نصب العین نہیں جس کے لئے پیغمبر کی بعثت ہوئی ہو، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں تو ملتی ہیں جن میں سیاسی پہلو بھی شامل ہو۔ مگر سارے قرآن میں ایسی کوئی ایک آیت نہیں جس کا مفہوم یہ ہو کہ " اے پیغمبر! تمہارا نصب العین یہ ہے کہ تم قرآنی احکام کی بنیاد پر ایک مکمل سیاسی نظام قائم کرو قرآن معاشی نصب العین کی آیت سے بھی خالی ہے اور سیاسی نصب العین کی آیت سے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues