امامت کاراز
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۶
امامت کاراز
سسلی ایک یوروپی ملک ہے جو میڈی ٹیرینین سمندر میں واقع ہے اور اٹلی سے ملا ہوا ہے۔ بارھویں صدی عیسوی میں یہاں ایک مسیحی نارمن بادشاہ راجر دوم (۱۱۵۴ - ۱۱۵۱) حکومت کرتا تھا۔ قدیم بادشاہوں (مثلاً اسکندر اعظم) کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ وہ اپنی زیر حکومت دنیا کا خاکہ تیار کرا کر اپنے پاس رکھیں ۔ شاہ راجر دوم کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ دنیا کا ایک بڑا نقشہ تیار کرائے جس میں اس کی اپنی سلطنت کے حدود دکھائے گئے ہوں۔ اس کام کے لئے راجر دوم نے اپنے وقت کے جس ماہر شخص کا انتخاب کیا وہ ایک مسلمان جغرافیہ داں الادریسی تھا۔ اسی مغربی بادشاہ کی خواہش پر الادریسی نے جغرافیہ کے بارے میں اپنی مشہور کتاب تیار کی جس میں جغرافی معلومات کے ساتھ بے نقشے شامل تھے۔ الادریسی کی عربی کتاب کا پہلا یوروپی ترجمہ روم میں ۱۶۱۹ میں کیا گیا۔
جے ۔ ایچ ۔ کریمر ز نے الادریسی کے مذکورہ جغرافیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "شاہ راجر دوم نے اپنے وقت کی معلوم دنیا کا تفصیلی خاکہ تیار کرنے کا کام ایک مسلمان عالم کے سپرد کیا ، اس سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے علم و فضل کی برتری ایک مسلم حقیقت سمجھی جاتی تھی ؛ ہر قسم کے فنی ماہرین مسلمانوں سے لئے جاتے تھے۔
اس زمانہ میں مسلمان ساری دنیا میں علم کے میدان میں بڑھے ہوئے تھے۔ ریاضی ، طب ، فلسفہ ، جغرافیہ ، فن تعمیر، فن حرب ، تاریخ اور زبان و ادب ہر چیز میں وہ دنیا کی امامت کر رہے تھے۔ اس واقعہ کی ایک شہادت وہ ہے جو زبان کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔ یورپ کی زبانوں میں کثرت سے ایسے الفاظ ہیں جن کی اصل عربی ہے۔
مسلمان پچھلے تقریباً ہزار سال تک دنیا کے قائد بنے ہوئے تھے۔ مگر یہ مقام ان کو مطالبہ اور احتجاج کی سیاست سے نہیں ملا تھا اور نہ کوڑے اور پھانسی کی سزاؤں کو جاری کرکے وہ اس بلندی تک پہنچ گئے تھے۔ اس کا راز تھا اہلیت۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ دنیا کو دینے والے بن گئے تھے نہ کہ صرف لینے والے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues