بڑا پن
الرسالہ، اگست ۱۹۸۲، صفحہ ۷
بڑا پن
شہنشاہ اکبر نے اپنے لڑکے شہزادہ سلیم کی شادی جے پور کے راجہ بھگوان داس کی لڑکی سے کی تھی۔ اس سلسلہ میں اکبر خود بارات لے کر جے پور گیا۔ نکاح کے بعد جب دولہن کا ڈولاباہر نکلا تو راجہ بھگوان داس نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا :
مار چیری تہار گھر کی باندی ہم باند غلام رے
(ہماری لڑکی آپ کے گھر کی کنیز ہے اور ہم آپ کے غلام ہیں)
یہ سن کر اکبر تڑپ اٹھا ۔ وہ بے تابانہ کھڑا ہو گیا اور راجہ بھگوان داس کو گلے لگا کر کہا کہ نہیں ، ایسا نہیں ہے۔ بلکہ یوں ہے :
تہار چیری مار گھر کی رانی تم صاحب سردار رے
(تمھاری لڑکی ہمارے گھر کی رانی ہے اور تم ہمارے سردار ہو)
یہ کہہ کر اکبر نے دولھن کے ڈولے میں خود کاندھا لگا دیا۔ اس کے بعد ساری فضا ہی دوسری ہو گئی ، تمام شہزادے اور امراء دوڑ پڑے۔ ہر ایک دولھن کا ڈولہ اٹھانے میں سبقت کرنے لگا۔ کچھ دور تک یہی لوگ ڈولہ لے کر چلتے رہے ، اس کے بعد اس کو کہاروں نے سنبھالا۔
خلیفہ ہارون رشید کا قول ہے کہ شریف آدمی وہ ہے جو اپنے سے بڑے کو دبائے اور چھوٹے سے خود دب جائے۔ اکبر کا مذکورہ واقعہ اس کی ایک مثال ہے۔ اکبر ایک بے حد بلند فطرت انسان تھا ، اگرچہ وقت کے علماء کے غلط کردار نے اس کو بگاڑ دیا۔
جو لوگ پست طبیعت کے ہوتے ہیں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ طاقت وروں کے ساتھ اخلاق برتتے ہیں اور جس کو کمزور پاتے ہیں اس کو ذلیل کرنے لگتے ہیں۔ مگر اونچی طبیعت والے آدمی کو اس بات سے شرم آتی ہے کہ وہ دو قسم کا اخلاق برتے۔ وہ ایک کے مقابلہ میں کچھ ہو اور دوسرے کے مقابلہ میں کچھ۔ وہ ہر حال میں سچائی کے سامنے جھکنے والا ہوتا ہے۔ وہ معقولیت کے سامنے بھی اسی طرح دیتا ہے جس طرح قوت کے سامنے۔ وہ کمزور کا بھی اتنا ہی لحاظ کرتا ہے جتنا طاقت ور کا۔ اس کا کردار اصول کے تابع ہوتا ہے نہ کہ لالچ اور خوف کے تابع۔
بڑا آدمی اپنی بڑائی جتا کر حقیقۃً چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اونچی حیثیت والا جب گھمنڈ کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ اپنے کو نیچے گرا لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1982 All issues