Al-Risala · September 1982 · page 11

اعلان کلمہ اللہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۱

کا معاملہ ہے اور خدا ہر نازک موڑ پر تمہاری مدد کے لئے موجود رہے گا۔ اسماعیل جب نوجوانی کی عمر کو پہنچے تو حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ اس خواب کو انھوں نے حکم خداوندی سمجھا اور بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے مگر عین اس وقت جب کہ ان کی چھری اسماعیل کے گلے پر پہنچ چکی تھی خدانے آواز دے کر انھیں روک دیا اور اس کے بدلے انھیں ایک مینڈھا دیا جس کو وہ خدا کے نام پر ذبح کریں۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ تم سے اگر چہ ہم نے بہت بڑی قربانی مانگی ہے مگر یہ صرف جذبہ کا امتحان ہے۔ قربانی پیش تو کرنا ہوگا مگر ابھی قربان ہونے کی نوبت نہیں آئے گی کہ خدا تمھیں بچائے گا کیونکہ اصل مقصد تم کو ایک بڑے کام کے لئے استعمال کرنا ہے نہ کہ خواہ مخواہ ہلاک کر دینا۔

حضرت اسماعیل بڑے ہوئے تو انھوں نے قبیلہ جرہم کی ایک لڑکی سے شادی کرلی جو زم زم نکلنے کے بعد آکر مکہ میں آباد ہوگیا تھا۔ حضرت ابراہیم جو اس وقت شام میں تھے، ایک روز گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اس وقت گھر پر اسماعیل نہ تھے، صرف ان کی بیوی موجود تھیں جو اپنے خسر کو پہچانتی نہ تھیں، حضرت ابراہیم نے پوچھا کہ اسماعیل کہاں گئے ہیں، بیوی نے کہا کہ شکار کرنے کے لئے۔ پھر پوچھا کہ تم لوگوں کی گزر کیسی ہوتی ہے۔ بیوی نے معاشی تنگی اور گھر کی ویرانی کی شکایت کی، اس کے بعد حضرت ابراہیم واپس چلے گئے اور خاتون سے کہا کہ جب اسماعیل آئیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچا دینا کہ اپنی چوکھٹ کو بدل دو (غیر عتبة بابك)، حضرت اسماعیل نے واپسی کے بعد جب پورا واقعہ سنا تو انھوں نے سمجھ لیا کہ یہ میرے باپ تھے جو ہمارا حال دیکھنے آئے تھے اور ’’چوکھٹ بدل دو‘‘ کا مطلب استعارے کی زبان میں یہ ہے کہ اس بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی کرو، کیونکہ وہ اس نسل کو پیدا کرنے کے لئے موزوں نہیں جس کا منصوبہ خدا نے بتایا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس بیوی کو طلاق دے دی اور دوسری عورت سے شادی کرلی۔ اس کے کچھ دن بعد حضرت ابراہیم دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، اب بھی اسماعیل گھر پر موجود نہ ملے۔ حضرت ابراہیم نے دوسری بیوی سے بھی وہی سوال کیا جو انھوں نے پہلی بیوی سے کیا تھا۔ اس بیوی نے اسماعیل کی تعریف کی اور کہا کہ جو کچھ ہے بہت اچھا ہے، سب خدا کا شکر ہے، اس کے بعد حضرت ابراہیم یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ اسماعیل آئیں تو ان کو میرا سلام کہنا اور یہ پیغام پہنچا دینا کہ چوکھٹ کو قائم رکھو (ثبت عتبة بابك) یعنی تمھاری یہ بیوی پیش نظر منصوبہ کے لئے بالکل ٹھیک ہے، اس کے ساتھ اپنا تعلق باقی رکھو (تفسیر ابن کثیر) اس طرح عرب کے الگ تھلگ علاقے میں اسماعیل کے ابتدائی خاندان سے ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی جس نے بالآخر اس جاندار قوم (بنو اسماعیل) کی صورت اختیار کی جو نبی آخرالزماں کا گہوارہ بن سکے اور تاریخ کی اس عظیم ترین ذمہ داری کو سنبھالے جو خدا اس کے سپرد کرنا چاہتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page