دور جدید میں اسلامی دعوت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴
اور ہمیشہ محدود رہے گا۔ انسان سائنسی ذرائع سے جب کائنات کی کھوج کرتا ہے تو اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ کائنات اس سے زیادہ پیچیدہ ہے کہ انسان کا محدود ذہن اس کا احاطہ کر سکے۔ سائنس کی یہ دریافت اسلامی نقطہ نظر سے بے حد اہم ہے ۔ کیونکہ اس سے رسالت کی اہمیت ثابت ہوتی ہے ۔ ایک طرف انسان کا یہ حال ہے کہ وہ حقیقت کو آخری حد تک جان لینا چاہتا ہے ۔ دوسری طرف انسان اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ایسی محدودیت کا شکار ہے کہ وہ کبھی بھی حقیقت کو آخری حد تک نہیں جان سکتا ۔ انسانی زندگی کا یہ خلا واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ اس کو ایک برتر رہنما کی ضرورت ہے۔ اُسی برتر رہنما کا دوسرا نام پیغمبر ہے۔ انسانی محدودیت کے بارے میں سائنس کے اقرار نے پیغمبر کی ضرورت کو خالص علمی سطح پر ثابت کر دیا ہے۔
۴۔ قدیم زمانہ میں انسان کو اظہار رائے کی آزادی حاصل نہ تھی۔ اس کی اصل وجہ بادشاہوں اور بڑے انسانوں کے تقدس کا عقیدہ تھا۔ جو لوگ کسی وجہ سے اونچے مقام پر پہنچ جاتے ان کو مقدس سمجھ لیا جاتا۔ ان کی رائے دوسروں سے برتر مانی جاتی۔ ان کو یہ حق مل جاتا کہ جس طرح چاہیں دوسروں کو اپنی مرضی کا پابند بنائیں۔ توحید کے انقلاب نے انسانی بڑائی کا خاتمہ کیا اور یہ اعلان کیا کہ کسی انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت نہیں۔ اس کے بعد تاریخ میں ایک نئی فکری لہر چل پڑی۔ یہی وہ فکری لہر ہے جس کی سیاسی تکمیل بالآخر یورپ میں جمہوریت کی صورت میں ہوئی۔ جمہوری انقلاب نے تمام انسانوں کو برابر ٹھہرا دیا۔ ہر شخص کے لئے یہ فکری حق تسلیم کر لیا گیا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق جو چاہے لکھے اور جو چاہے بولے۔ اس انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنا دیا کہ خدا کے دین کی تبلیغ اس طرح کی جائے کہ تبلیغ کرنے والے کے لئے کسی طرح کی پکڑ دھکڑ کا اندیشہ نہ ہو۔
۵۔ سائنس نے آج کے انسان کے لئے خدا کی بہت سی وہ مادی نعمتیں کھولی ہیں جو ہزاروں برس سے کائنات کے اندر چھپی ہوئی تھیں ۔ ان میں اسلامی دعوت کے نقطہ نظر سے سب سے اہم جدید ذرائع مواصلات ہیں۔ پریس، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اسی طرح مختلف قسم کی تیز رفتار سواریاں ۔ یہ چیزیں اسلام کے حق میں عظیم نعمتیں ہیں ۔ ان کو استعمال کر کے اسلامی دعوت کو عالمی سطح پر پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہ مواقع جو عین اسلامی دعوت کے حق میں ہیں، پچھلے ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ پچھلے زمانہ میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے ڈھائی ہزار سالہ عمل کے ذریعہ اسلام کے غلبہ اول کے حالات فراہم کئے، اسی طرح اس نے دوبارہ ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں اسلام کے غلبہ ثانی کے حالات فراہم کر دیئے ہیں۔ تاہم یہ حالات خود اپنے زور پر واقعہ نہیں بن جائیں گے ۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کے لئے زندہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues