دور جدید میں اسلامی دعوت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۵
انسانوں کی ایک جماعت درکار ہے۔ ایسی ایک جماعت اگر کھڑی ہو جائے تو قریبی مستقبل میں اسی طرح دوبارہ اسلام کو فکری غلبہ مل سکتا ہے جس طرح قرن اول میں اس کو شرک کے مقابلہ میں فکری غلبہ حاصل ہوا تھا۔
اوپر جن امکانات کا ذکر ہوا وہ تقریباً ایک سو سال سے ایسی کسی جماعت کا انتظار کر رہے ہیں مگر بدقسمتی سے ایسی کوئی جماعت ابھی تک کھڑی نہ ہوسکی۔ اس میں شک نہیں کہ پچھلے سو سال کے اندر ہمارے یہاں بے شمار جماعتیں اور تحریکیں اٹھی ہیں ، مگر یہ تحریکیں وقتی حالات ، خصوصاً سیاسی حالات کے رد عمل کے طور پر اٹھیں نہ کہ اس ربانی شعور کے تحت جو پچھلے ہزار سال سے تاریخ کے اندر کام کرتا رہا ہے اور چودھویں صدی ہجری میں اپنی تکمیل کو پہنچا ہے۔
سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ بدر کے میدان میں جب طاقت ور اہل کفر بظاہر کمز ور اہل ایمان کے اوپر ٹوٹ پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدت احساس کے تحت سجدے میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں مانگنے لگے ۔ اس نازک لمحہ میں آپ کی زبان سے جو کلمات نکلے ان میں سے ایک جملہ یہ تھا: اللهم ان تهلك هذہ العصابة لا تعبد بعدها في الارض (خدايا اگر یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی)۔ یہ کوئی مبالغہ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تین سو تیرہ روحیں جو بے سرو سامانی کے باوجود بدر کے معرکہ میں کھڑی ہوئی تھیں یہ محض عام قسم کے تین سو تیرہ لوگ نہ تھے۔ یہ عصابہ دراصل وہ گروہ تھا جس پر ڈھائی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی تھی ۔ اسی طرح آج دوبارہ ایک نیا عصابہ (گروہ) درکار ہے جس پر پچھلی ہزار سالہ تاریخ منتہی ہوئی ہو۔ جو اپنے شعور کے اعتبار سے پچھلی ہزار سالہ تاریخ کا وارث ہو۔ جو اپنے کردار کے اعتبار سے ان امکانات کو واقعہ بنانے کا اٹل ارادہ اپنے اندر لئے ہوئے ہو ، جو سنجیدہ فیصلے کی اس حد پر پہنچا ہوا ہو جہاں پہنچ کر آدمی اس قابل ہو جاتا کہ وہ اپنے مقصد سے پوری طرح وابستہ رہے ، کوئی بھی خارجی واقعہ اس کو اس کے نشانہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہو یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے کاگ میں اپنا کاگ ملائیں گے۔ اور بالا خر یقینی کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues