مردانِ کار کی ضرورت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۰
مردانِ کار کی ضرورت
اکثر لوگ احیاء اسلام کی مہم کو اس کے ”پروگرام“ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کو اسی وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ انھیں ایک متعین پروگرام بتا دیا جائے۔ مگر پروگرام کو تحریک کا بدل سمجھنا تحریک کی وسعتوں کی تصغیر (Underestimation)ہے۔ پروگرام ایک محدود نقشہ کار کا نام ہے اور انسانی زندگی اس سے زیادہ وسیع ہے کہ وہ کسی محدود نقشہ کار کے دائرہ میں سما سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا پروگرام خود افراد کو پروگرام ساز بنانا ہے نہ کہ افراد کے ہاتھوں میں کوئی لگا بندھا پروگرام دینا۔ اسلامی دعوت یہی کام کرتی ہے۔ حقیقی اسلامی دعوت افراد کے ذہن کو اس طرح جگا دیتی ہے کہ وہ خود پروگرام ساز بن جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں صرف توحید کی دعوت پیش کی تھی۔ آپ نے اس قسم کی کوئی چیز لوگوں کو نہیں دی جس کو موجودہ زمانہ میں ”پروگرام“ کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہر وہ شخص جو آپ کی دعوت سے متاثر ہوتا اس کو اپنے لئے مکمل پروگرام مل جاتا تھا۔ وہ آپ سے توحید کا شعور لینے کے بعد خود ہی سارا کام کرنے لگتا تھا۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ مکہ چھوڑ کر حبش گئے ان کو آپ نے معروف معنوں میں کوئی پروگرام نہیں بتایا تھا۔ مگر انھوں نے حبش میں اسلام کی اتنی کامیاب نمائندگی کی کہ اسلام بین الاقوامی دعوت کے مرحلہ میں داخل ہو گیا۔ آپ کی ہجرت سے پہلے جو مسلمان مدینہ گئے ان کو آپ نے قرآن کی سورتوں کے سوا اور کچھ نہیں دیا تھا۔ مگر انھوں نے مدینہ میں اسلامی دعوت کی مہم اس طرح چلائی کہ صرف چند سالوں میں مدینہ اس قابل ہو گیا کہ وہ دار الہجرت (اسلام کا مرکز) بن سکے۔ تقلیدی مذہب سے ہٹا کر شعوری مذہب پر لانے کی مہم سب سے بڑی انقلابی مہم ہے۔ وہ ایسے افراد وجود میں لاتی ہے جو اپنی ذات میں مکمل پروگرام ہوتے ہیں۔ ایسی مہم کی زد انسان کے پورے وجود پر پڑتی ہے۔ وہ انسانی فطرت کو اس طرح جگاتی ہے کہ اس کے اندر ربانی حکمت کا چشمہ ابل پڑے۔ اب ایسے انسان وجود میں آتے ہیں جو خدا کے پاؤں سے چلیں، جو خدا کے ہاتھ سے پکڑیں، جو خدا کی آنکھ سے دیکھیں اور خدا کے کان سے سنیں۔ وہ حدیث کے الفاظ میں، وہ بے پناہ انسان بن جائیں جس کی ہوش مندی ہر دوسری چیز سے بلند تر ثابت ہوتی ہے (اتقوا فراسة المؤمن فانه ينظر بنور اللہ) ایسا آدمی خود ہر چیز کا بدل بن جاتا ہے۔ اس کے پاس ہر سوال کا صحیح ترین جواب ہوتا ہے۔ وہ ہر موقع پر اپنے لئے کامیاب ترین راہِ عمل تلاش کر لیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں یہی حکمت ربانی جگادی تھی، اس کے بعد انھیں کسی اور چیز کی ضرورت نہ رہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues